انجام آتھم — Page 338
روحانی خزائن جلد ا ۳۳۸ ضمیمه رساله انجام آتھم (۵۴) ان البلاء علی عقبک ۱۸۸۶ء میں ہوا تھا۔ اس میں صریح شرط تو بہ کی موجود تھی۔ اور الہام کذبوا بآیاتنا اس شرط کی طرف ایما کر رہا تھا۔ پس جبکہ بغیر کسی شرط کے یونس کی قوم کا عذاب ٹل گیا تو شرطی پیشگوئی میں ایسے خوف کے وقت میں کیوں تاخیر ظہور میں نہ آتی۔ یہ اعتراض کیسی بے ایمانی ہے جو تعصب کی وجہ سے کیا جاتا ہے۔ میں نے نبیوں کے حوالے بیان کر دئیے۔ حدیثوں اور آسمانی کتابوں کو آگے رکھ دیا۔ مگر یہ نابکار قوم ابھی تک حیا اور شرم کی طرف رخ نہیں کرتی۔ یا درکھو کہ اس پیشگوئی کی دوسری جز پوری نہ ہوئی تو میں ہر یک بد سے بدتر ٹھہروں گا۔ اے احمقوا بی انسان کا افترا نہیں۔ یہ کسی خبیث مفتری کا کاروبار نہیں۔ یقینا سمجھو کہ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے وہی خدا جس کی باتیں نہیں ملتیں۔ وہی رب ذوالجلال جس کے ارادوں کو کوئی روک نہیں سکتا۔ اُس کی سنتوں اور طریقوں کا تم میں علم نہیں رہا۔ اس لئے تمہیں یہ ابتلا پیش آیا۔ براہین احمدیہ میں بھی اس وقت سے سترہ برس پہلے اس پیشگوئی کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے۔ جو اس وقت میرے پر کھولا گیا ہے اور وہ یہ الہام ہے جو براہین کے صفحہ ۴۹۶ میں مذکور ہے۔ یا ادم اسکكن انت وزوجك الجنة يامريم اسكن انت وزوجك الجنة۔ يا احمد اسکن انت وزوجك الجنة ۔ اس جگہ تین جگہ زوج کا لفظ آیا۔ اور تین نام اس عاجز کے رکھے گئے ۔ پہلا نام آدم ۔ یہ وہ ابتدائی نام ہے جبکہ خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے اس عاجز کو روحانی وجود بخشا۔ اس وقت پہلی زوجہ کا ذکر فرمایا۔ پھر دوسری زوجہ کے وقت میں مریم نام رکھا کیونکہ اس وقت مبارک اولاد دی گئی جس کو میسیج سے مشابہت ملی۔ اور نیز اس وقت مریم کی طرح کئی ابتلا پیش آئے۔ جیسا کہ مریم کو حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش کے وقت یہودیوں کی بدظنیوں کا ابتلا پیش آیا اور تیسری زوجہ جس کی انتظار ہے۔ اس کے ساتھ احمد کا لفظ شامل کیا گیا۔ اور یہ لفظ احمد اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس وقت حمد اور تعریف ہوگی ۔ یہ ایک چھپی ہوئی پیشگوئی ہے۔ جس کا سر اس وقت خدا تعالیٰ نے مجھ پر کھول دیا۔ غرض یہ تین مرتبہ زوج کا لفظ تین مختلف نام کے ساتھ جو بیان کیا گیا ہے وہ اسی پیشگوئی کی طرف اشارہ تھا۔