انجام آتھم — Page 337
۳۳۷ روحانی خزائن جلد ۱۱ ضمیمه رساله انجام آتھم رکھتی تھی کہ ان لوگوں کو احمد بیگ کی وفات کے بعد اپنے عزیز داماد کی موت کا فکر کھانے لگتا۔ اور اس طرح ۵۳) ہراساں ہو کر رجوع الی الحق کرتے۔ کیا انسان میں یہ خاصیت نہیں کہ چشم دید تجربہ اس پر سخت اثر ڈالتا ہے۔ سو در حقیقت ایسا ہی ہوا ۔ احمد بیگ کی موت نے اس کے وارثوں کو خاک میں ملا دیا۔ اور ایسے غم میں ڈالا کہ گویا وہ مر گئے اور سخت خوف میں پڑ گئے اور دعا میں اور تضرع میں لگ گئے ۔ سوضرور تھا کہ خدا تعالیٰ اس جگہ بھی تاخیر ڈالتا۔ جیسا کہ آتھم کے متعلق کی پیشگوئی میں تاخیر ڈالی۔ ہم عربی مکتوب میں لکھ چکے ہیں کہ یہ پیشگوئی بھی مشروط بہ شرط تھی اور ہم یہ بھی بار بار بیان کر چکے ہیں کہ وعید کی پیشگوئی بغیر شرط کے بھی تخلف پذیر ہو سکتی ہے۔ جیسا کہ یونس کی پیشگوئی میں ہوا ہمیں سو چاہیے تھا کہ ہمارے نادان مخالف انجام کے منتظر رہتے اور پہلے ہی سے اپنی بد گو ہری ظاہر نہ کرتے ۔ بھلا جس وقت یہ سب باتیں پوری ہو جائیں گی تو کیا اس دن یہ احمق مخالف جیتے ہی رہیں گے اور کیا اس دن یہ تمام لڑنے والے سچائی کی تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے نہیں ہو جائیں گے ان بیوقوفوں کو کوئی بھاگنے کی جگہ نہیں رہے گی۔ اور نہایت صفائی سے ناک کٹ جائے گی۔ اور ذلت کے سیاہ داغ ان کے منحوس چہروں کو بندروں اور سٹوروں کی طرح کر دیں گے۔ سنو اور یا درکھو! کہ میری پیشگوئیوں میں کوئی ایسی بات نہیں کہ جو خدا کے نبیوں اور رسولوں کی پیشگوئیوں میں ان کا نمونہ نہ ہو۔ بیشک یہ لوگ میری تکذیب کریں۔ بیشک گالیاں دیں۔ لیکن اگر میری پیشنگوئیاں نبیوں اور رسولوں کی پیشگوئیوں کے نمونہ پر ہیں تو ان کی تکذیب انہیں پر لعنت ہے۔ چاہیئے کہ اپنی جانوں پر رحم کریں اور روسیاہی کے ساتھ نہ مریں۔ کیا یونس کا قصہ انہیں یاد نہیں کہ کیونکر وہ عذاب ٹل گیا۔ جس میں کوئی شرط بھی نہ تھی اور اس جگہ تو شرطیں موجود ہیں۔ اور احمد بیگ کے اصل وارث جن کی تنبیہ کے لئے یہ نشان تھا اس کے مرنے کے بعد پیشگوئی سے ایسے متاثر ہوئے تھے کہ اس پیشگوئی کا نام لے لے کر روتے تھے اور پیشگوئی کی عظمت دیکھ کر اس گاؤں کے تمام مرد عورت کانپ اٹھے تھے۔ اور عورتیں چھینیں مار کر کہتی تھیں کہ ہائے وہ باتیں بیچ نکلیں۔ چنانچہ وہ لوگ اس دن تک غم اور خوف میں تھے جب تک ان کے داماد سلطان محمد کی میعاد گذر گئی۔ پس اس تاخیر کا یہی سبب تھا جو خدا کی قدیم سنت کے موافق ظہور میں آیا۔ خدا کے الہام میں جو توہی توہی اس پیشگوئی کی تصدیق کے لئے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی پہلے سے ایک پیشگوئی فرمائی ہے کہ یتزوج ويولد له ۔ یعنی وہ مسیح موعود بیوی کرے گا اور نیز وہ صاحب اولاد ہوگا۔ اب ظاہر ہے کہ تزوج اور اولاد کا ذکر کرنا عام طور پر مقصود نہیں کیونکہ عام طور پر ہر ایک شادی کرتا ہے اور اولاد بھی ہوتی ہے۔ اس میں کچھ خوبی نہیں بلکہ تزوج سے مراد وہ خاص تزوج ہے جو بطور نشان ہوگا اور اولاد سے مراد وہ خاص اولاد ہے جس کی نسبت اس عاجز کی پیشگوئی موجود ہے۔ گویا اس جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سیاہ دل منکروں کو ان کے شبہات کا جواب دے رہے ہیں اور فرمارہے ہیں کہ یہ باتیں ضرور پوری ہوں گی۔ منہ