انجام آتھم — Page 313
روحانی خزائن جلد ۱۱ ۳۱۳ ضمیمہ رسالہ انجام آتھم بند رکھیں۔ اور ہر ایک کو محبت اور اخلاق سے ملیں اور قہر الہی سے ڈر کر ملاقاتوں میں مسلمانوں ۲۹ سے بعد نمبر دوم پر شیخ صاحب ہیں جو محبت اور اخلاص سے بھرے ہوئے ہیں ۔ شیخ صاحب موصوف اس راہ میں دو ہزار سے زیادہ روپیہ دے چکے ہوں گے اور ہر ایک طور سے وہ خدمت میں حاضر ہیں ۔ اور اپنی طاقت اور وسعت سے زیادہ خدمت میں سرگرم ہیں ۔ ایسا ہی بعض میرے مخلص دوستوں نے مباہلہ کے بعد اس درویش خانہ کے کثرت مصارف کو دیکھ کر اپنی تھوڑی تھوڑی تنخواہوں میں اس کے لئے حصہ مقرر کر دیا ہے۔ چنانچہ میرے مخلص دوست منشی رستم علی صاحب کورٹ انسپکٹر گورداسپورہ تنخواہ میں سے تیسرا حصہ یعنی بین اروپیہ ماہوار دیتے ہیں۔ ہماری عزیز جماعت حیدر آباد کی یعنی مولوی سید مردان علی صاحب اور مولوی سید ظہور علی صاحب اور مولوی عبد الحمید صاحب دس دس رو پید اپنی تنخواہ میں سے دیتے ہیں۔ اور اسی طرح مفتی محمد صادق صاحب بھیروی اور منشی روڑ ا صاحب کپورتھلہ اور ان کے رفیق اور ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب چکرانہ اور ڈاکٹر بوڑیخاں صاحب قصور اور سید ناصر شاہ صاحب سب او در سیر ۔ اور حکیم فضل الدین صاحب بھیروی اور خلیفہ نوردین صاحب جموں کے سب بدل و جان اس راہ میں مصروف ہیں۔ ایسا ہی ہماری مخلص اور محب جماعت سیالکوٹ یہ تمام حسین اپنی طاقت سے زیادہ خدمت میں مصروف ہیں۔ اسی طرح محبی انوار حسین صاحب رئیس شاه آباد بدل و جان خدمت میں لگے ہوئے ہیں۔ ایسا ہی ہمارے دلی محبت مولوی محمد احسن صاحب امروہی جو اس سلسلہ کی تائید کے لئے عمدہ عمدہ تالیفات میں سرگرم ہیں۔ اور صاحبزادہ پیر جی سراج الحق صاحب نے تو ہزاروں مریدوں سے قطع تعلق کر کے اس جگہ کی درویشانہ زندگی قبول کی ۔ اور میاں عبد اللہ صاحب سنوری اور مولوی برہان الدین صاحب جہلمی ۔ اور مولوی مبارک علی صاحب سیالکوئی۔ اور قاضی ضیاء الدین صاحب قاضی کوئی ۔ اور منشی چودہری نبی بخش صاحب بٹالہ ضلع گورداسپورہ ۔ اور منشی جلال الدین صاحب بلانی وغیرہ احباب اپنی اپنی طاقت کے موافق خدمت میں لگے ہوئے ہیں۔ میں اپنی جماعت کے محبت اور اخلاص پر تعجب کرتا ہوں کہ ان میں سے نہایت ہی کم معاش والے جیسے میاں جمال الدین اور خیر الدین اور امام الدین کشمیری میرے گاؤں سے قریب رہنے والے ہیں وہ تینوں غریب بھائی بھی جو شاید تین آنه یا چار آنه روز مزدوری کرتے ہیں۔ سرگرمی سے ماہواری چندہ میں شریک ہیں ۔ اُن کے دوست میاں عبدالعزیز پٹواری کے اخلاص سے بھی مجھے تعجب ہے کہ وہ با وجود قلت معاش کے ایک دن لے حکیم صاحب مال اور جان سے اس راہ میں ایسے مصروف ہیں کہ گویا محو ہیں۔ ے اور خلیفہ نوردین صاحب علاوہ دائمی اعانت کے ابھی پانچ سو روپیہ نقد بطور امداد دے چکے ہیں۔ منہ