انجام آتھم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 305 of 448

انجام آتھم — Page 305

روحانی خزائن جلد ۱۱ ۳۰۵ ضمیمه رساله انجام آنتم مباہلہ کے بعد میری بددعا کے اثر سے ایک بھی خالی رہا تو میں اقرار کروں گا کہ میں جھوٹا ہوں (۳۱) واقعی ذلت نہ پہنچی یا ہمیں کوئی واقعی عزت حاصل نہ ہوئی جیسا کہ میں آگے چل کر بیان کروں گا۔ ماسوا اس کے وہ مباہلہ در حقیقت میری درخواست سے نہیں تھا اور نہ میرا اس میں یہ مدعا تھا کہ عبد الحق پر بددعا کروں اور نہ میں نے بعد مباہلہ بھی اس بات کی طرف توجہ کی۔ اس بات کو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ میں نے کبھی عبدالحق پر بددعا نہیں کی۔ اور اپنے دل کے جوش کو ہرگز اس طرف توجہ نہیں دیا۔ لیکن اب نا اہل مولویوں کا ظلم انتہا سے گزر گیا۔ اس لئے اب میں آسمانی فیصلہ کے لئے خود ہر ایک مکفر سے مباہلہ کی درخواست کرتا ہوں ۔ اور اس لئے کہ بعد میں شبہات پیدا نہ ہوں۔ میں نے یہ لازمی شرط اظہر ادی ہے کہ جو لوگ مباہلہ کے لئے بلائے گئے ہیں کم سے کم دین آدمی ان میں سے مباہلہ کی درخواست کریں تا خدا کی مد رصفائی سے ثابت ہو اور کسی تاویل کی گنجائش نہ رہے اور تا کوئی بعد میں یہ نہ کہے کہ مقابل پر صرف ایک آدمی تھا سواتفاقا اس پر کوئی مصیبت آگئی۔ بعض خبیث طبع مولوی جو یہودیت کا خمیر اپنے اندر رکھتے ہیں سچائی پر پردہ ڈالنے کے لئے یہ بھی کہا کرتے ہیں کہ گزشتہ مباہلہ میں عبد الحق کو فتح ہوئی ۔ کیونکہ آتھم کے متعلق جو پیشگوئی کی تھی اس میں آتھم نہیں مرا۔ مگر یہ دل کے مجزوم اور اسلام کے دشمن یہ نہیں سمجھتے کہ کب اور کس وقت یہ الہام ظاہر کیا گیا تھا کہ آتھم ضرور میعاد کے اندر مرے گا اور کس اشتہار یا کتاب میں ہم نے لکھا تھا کہ اس عرصہ میں بغیر کسی شرط کے آعظم کی نسبت موت کا حکم ہے دنیا میں سب جانداروں سے زیادہ پلید اور کراہت کے لائق خنزیر ہے مگر خنزیر سے زیادہ پلید وہ لوگ ہیں جو اپنے نفسانی جوش کے لئے حق اور دیانت کی گواہی کو چھپاتے ہیں۔ اے مردار خوار مولویو ۔ اور گندی روحو۔ تم پر افسوس کہ تم نے میری عداوت کے لئے اسلام کی سچی گواہی کو چھپایا۔ اے اندھیرے کے کیڑو۔ تم سچائی کی تیز شعاعوں کو کیونکر چھپا سکتے ہو کیا ضرور نہ تھا کہ خدا اس پیشگوئی میں اپنی شرط کا لحاظ رکھتا۔ اے ایمان اور انصاف سے دور بھاگنے والوچ کہو کہ کیا اس پیشگوئی میں کوئی ایسی شرط نہ تھی جس پر قدم مارنا آتھم کا اس کی موت میں تا خیر ڈال سکتا تھا۔ سو تم جھوٹ مت بولو اور وہ نجاست نہ کھاؤ جو عیسائیوں نے کھائی۔ آنکھ کھول کر دیکھو کہ یہ پیشگوئی اپنی تمام چہکوں کے ساتھ پوری ہوگئی۔ اب اس پیشگوئی کو ایک پیشگوئی نہ سمجھو بلکہ یہ دو پیشگوئیاں ہیں جو اپنے وقت پر ظہور میں آئیں۔ (1) اول وہ پیشگوئی جو براہین احمدیہ کے صفحہ ۲۴۱ میں درج ہے۔ جس نے آج سے پندرہ برس