انجام آتھم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 290 of 448

انجام آتھم — Page 290

روحانی خزائن جلد ۱۱ ۲۹۰ ضمیمہ رسالہ انجام آتھم مگر شاید بعض بدذات مولوی منہ سے اقرار نہ کریں مگر دل اقرار کر گئے ہیں۔ پھر ایک اور پیشگوئی نشان الہی ہے جس کا ذکر براہین احمدیہ کے صفحہ ۲۴۱ میں ہے اور وہ یہ ہے يا احــمــد فـاضــت الرحمة على شفتیک ۔ اے احمد فصاحت بلاغت کے چشمے تیرے لبوں پر جاری کئے گئے ۔ سو اس کی تصدیق کئی سال سے ہو رہی ہے ۔ کئی کتابیں عربی بلیغ فصیح میں تالیف کر کے بلکہ وہ اوروں کے حق میں تھیں جو آپ کے تولد سے پہلے پوری ہو گئیں اور نہایت شرم کی بات یہ ہے کہ آپ نے پہاڑی تعلیم کو جو انجیل کا مغز کہلاتی ہے۔ یہودیوں کی کتاب طالمود سے چرا کر لکھا ہے۔ اور پھر ایسا ظاہر کیا ہے کہ گویا یہ میری تعلیم ہے۔ لیکن جب سے یہ چوری پکڑی گئی عیسائی بہت شرمندہ ہیں۔ آپ نے یہ حرکت شاید اس لئے کی ہوگی کہ کسی عمدہ تعلیم کا نمونہ دکھلا کر رسوخ حاصل کریں۔ لیکن آپ کی اس بے جا حرکت سے عیسائیوں کی سخت روسیا ہی ہوئی اور پھر افسوس یہ ہے کہ وہ تعلیم بھی کچھ عمدہ نہیں عقل اور کانشنس دونوں اس تعلیم کے منہ پر طمانچے مار رہے ہیں۔ آپ کا ایک یہودی استاد تھا جس سے آپ نے توریت کو سبقاً سبقاً پڑھا تھا۔ معلوم ہوتا ہے کہ یا تو قدرت نے آپ کو زیر کی سے کچھ بہت حصہ نہیں دیا تھا اور یا اس استاد کی یہ شرارت ہے کہ اس نے آپ کو محض سادہ لوح رکھا۔ بہر حال آپ علمی اور عملی قومی میں بہت کچے تھے۔ اسی وجہ سے آپ ایک مرتبہ شیطان کے پیچھے پیچھے چلے گئے ۔ ایک فاضل پادری صاحب فرماتے ہیں کہ آپ کو اپنی تمام زندگی میں تین مرتبہ شیطانی الہام بھی ہوا تھا چنانچہ ایک مرتبہ آپ اسی الہام سے خدا سے منکر ہونے کے لئے بھی طیار ہو گئے تھے۔ آپ کی انہیں حرکات سے آپ کے حقیقی بھائی آپ سے سخت ناراض رہتے تھے اور ان کو یقین تھا کہ آپ کے دماغ میں ضرور کچھ خلل ہے اور وہ ہمیشہ چاہتے رہے کہ کسی شفا خانہ میں آپ کا با قاعدہ علاج ہو شاید خدا تعالیٰ شفا بخشے ۔ عیسائیوں نے بہت سے آپ کے معجزات لکھے ہیں۔ مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔ اور اس دن سے کہ آپ نے معجزہ مانگنے والوں کو گندی گالیاں دیں اور ان کو حرام کار اور حرام کی اولا دٹھہرایا۔ اسی روز سے شریفوں نے آپ سے کنارہ کیا اور نہ چاہا کہ معجزہ مانگ کر حرام کار اور حرام