انجام آتھم — Page 290
روحانی خزائن جلد ا ۲۹۰ ضمیمه رساله انجام آتھم ۲ مگر شاید بعض بدذات مولوی منہ سے اقرار نہ کریں مگر دل اقرار کر گئے ہیں۔ پھر ایک اور پیشنگوئی نشان الہی ہے جس کا ذکر براہین احمدیہ کے صفحہ ۲۴۱ میں ہے اور وہ یہ ہے يـا احـمـد فـاضــت الرحمة على شفتیک ۔ اے احمد فصاحت بلاغت کے چشمے تیرے لبوں پر جاری کئے گئے ۔ سو اس کی تصدیق کئی سال سے ہو رہی ہے ۔ کئی کتا ہیں عربی بلیغ فصیح میں تالیف کر کے بلکہ وہ اوروں کے حق میں تھیں جو آپ کے تو لد سے پہلے پوری ہو گئیں اور نہایت شرم کی بات یہ ہے کہ آپ نے پہاڑی تعلیم کو جوانجیل کا مغز کہلاتی ہے۔ یہودیوں کی کتاب طالمود سے چرا کر لکھا ہے۔ اور پھر ایسا ظاہر کیا ہے کہ گویا یہ میری تعلیم ہے۔ لیکن جب سے یہ چوری پکڑی گئی عیسائی بہت شرمندہ ہیں۔ آپ نے یہ حرکت شاید اس لئے کی ہوگی کہ کسی عمدہ تعلیم کا نمونہ دکھلا کر رسوخ حاصل کریں۔ لیکن آپ کی اس بے جا حرکت سے عیسائیوں کی سخت روسیاہی ہوئی اور پھر افسوس یہ ہے کہ وہ تعلیم بھی کچھ عمدہ نہیں عقل اور کانشنس دونوں اس تعلیم کے منہ پر طمانچے ماررہے ہیں۔ آپ کا ایک یہودی استاد تھا جس سے آپ نے توریت کو سبقاً سبقاً پڑھا تھا۔ معلوم ہوتا ہے کہ یا تو قدرت نے آپ کو زیر کی سے کچھ بہت حصہ نہیں دیا تھا اور یا اس استاد کی یہ شرارت ہے کہ اس نے آپ کو محض سادہ لوح رکھا۔ بہر حال آپ علمی اور عملی قومی میں بہت کچے تھے۔ اسی وجہ سے آپ ایک مرتبہ شیطان کے پیچھے پیچھے چلے گئے۔ ایک فاضل پادری صاحب فرماتے ہیں کہ آپ کو اپنی تمام زندگی میں تین مرتبہ شیطانی الہام بھی ہوا تھا چنانچہ ایک مرتبہ آپ ای الہام سے خدا سے منکر ہونے کے لئے بھی طیار ہو گئے تھے۔ آپ کی انہیں حرکات سے آپ کے حقیقی بھائی آپ سے سخت ناراض رہتے تھے اور ان کو یقین تھا کہ آپ کے دماغ میں ضرور کچھ خلل ہے اور وہ ہمیشہ چاہتے رہے کہ کسی شفاخانہ میں آپ کا با قاعدہ علاج ہو شاید خدا تعالیٰ شفا بخشے۔ عیسائیوں نے بہت سے آپ کے معجزات لکھے ہیں۔ مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔ اور اس دن سے کہ آپ نے معجزہ مانگنے والوں کو گندی گالیاں دیں اور ان کو حرام کار اور حرام کی اولا دکھہرایا۔ اسی روز سے شریفوں نے آپ سے کنارہ کیا اور نہ چاہا کہ معجزہ مانگ کر حرام کار اور حرام