انجام آتھم — Page 289
۲۸۹ ضمیمه رساله انجام آنقم روحانی خزائن جلد 1 یہ کیسی خباثت تھی کہ آتھم کی موت کو جو عین الہام کے موافق بیبا کی کے بعد بلا توقف ظہور میں آئی کسی (۵) نے اس کو نشان الہی قرار نہ دیا۔ وہ گندے اخبار نویس جو آتھم کے مرید تھے۔ پیشگوئی کی حقیقت کھلنے کے بعد ایسے تجاہل سے چپ ہوئے کہ گویا مر گئے ۔ اب آنکھیں کھولو اور اٹھو اور جا گوادر تلاش کرو کہ آتھم کہاں ہے۔ کیا خدا کے حکم نے اس کو قبر میں نہ پہنچا دیا۔ ہر ایک منصف اس پیشگوئی کو تسلیم کرے گا جائے گا۔ دیکھو یسوع کو کیسی سوجھی اور کیسی پیش بندی کی۔ اب کوئی حرام کار اور بدکار بنے تو اس سے معجزہ مانگے ۔ یہ تو وہی بات ہوئی کہ جیسا کہ ایک شریر مکار نے جس میں سراسر یسوع کی روح تھی لوگوں میں یہ مشہور کیا کہ میں ایک ایسا ورد بتلا سکتا ہوں جس کے پڑھنے سے پہلی ہی رات میں خدا نظر آ جائے گا۔ بشرطیکہ پڑھنے والا حرام کی اولاد نہ ہو۔ اب بھلا کون حرام کی اولا د بنے اور کہے کہ مجھے وظیفہ پڑھنے سے خدانظر نہیں آیا۔ آخر ہر ایک وظیفی کو یہی کہنا پڑتا تھا کہ ہاں صاحب نظر آ گیا۔ سو یسوع کی بندشوں اور تدبیروں پر قربان ہی جائیں اپنا پیچھا چھڑانے کے لئے کیسا داؤ کھیلا۔ یہی آپ کا طریق تھا۔ ایک مرتبہ کسی یہودی نے آپ کی قوت شجاعت آزمانے کے لئے سوال کیا کہ اے استاد قیصر کو خراج دینا روا ہے یا نہیں۔ آپ کو یہ سوال سنتے ہی اپنی جان کی فکر پڑ گئی کہ کہیں باغی کہلا کر پکڑا نہ جاؤں۔ سوجیسا کہ معجزہ مانگنے والوں کو ایک لطیفہ سنا کر معجزہ مانگنے سے روک دیا تھا۔ اس جگہ بھی وہی کارروائی کی اور کہا کہ قیصر کا قیصر کو دو اور خدا کا خدا کو ۔ حالانکہ حضرت کا اپنا عقیدہ یہ تھا کہ یہودیوں کے لئے یہودی بادشاہ چاہئے نہ کہ مجوی ۔ اسی بنا پر ہتھیار بھی خریدے۔ شہزادہ بھی کہلایا مگر تقدیر نے یاوری نہ کی۔ متی کی انجیل سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی عقل بہت موٹی تھی ۔ آپ جاہل عورتوں اور عوام الناس کی طرح مرگی کو بیماری نہیں سمجھتے تھے بلکہ جن کا آسیب خیال کرتے تھے۔ ہاں آپ کو گالیاں دینے اور بدزبانی کی اکثر عادت تھی ۔ ادنی ادنی بات میں غصہ آجا تا تھا۔ اپنے نفس کو جذبات سے روک نہیں سکتے تھے ۔ مگر میرے نزدیک آپ کی یہ حرکات جائے افسوس نہیں کیونکہ آپ تو گالیاں دیتے تھے اور یہودی ہاتھ سے کسر نکال لیا کرتے تھے۔ یہ بھی یادر ہے کہ آپ کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔ جن جن پیشگوئیوں کا اپنی ذات کی نسبت توریت میں پایا جانا آپ نے بیان فرمایا ہے۔ ان کتابوں میں ان کا نام ونشان نہیں پایا جاتا