انجام آتھم — Page 288
روحانی خزائن جلد ۱۱ ۲۸۸ رساله ضمیمه انجام آتھم ہونے سے پوری ہو گئی کیونکہ آپ نے فرمایا تھا کہ عیسائیوں اور اہل اسلام میں آخری زمانہ میں ایک جھگڑا ہوگا۔ عیسائی کہیں گے کہ ہم حق پر ہیں اور مسلمان کہیں گے کہ حق ہم میں ظاہر ہوا۔ اس وقت عیسائیوں کے لئے شیطان آواز دے گا کہ حق آل عیسی کے ساتھ ہے اور مسلمانوں کے لئے آسمان سے آواز آئے گی کہ حق آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہے۔ سو یا در ہے کہ یہ پیشگوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آتھم کے قصہ کے متعلق ہے کیونکہ زمین کے شیطانوں نے آتھم کے مقدمہ میں عیسائیوں کا ساتھ کیا اور یہ کہا کہ عیسائی فتح پاگئے چنانچہ پلید دل مولوی اور بعض اخباروں والے انہیں شیطانوں میں سے تھے جنہوں نے حق اور سچائی اور دین کا پاس نہ کیا اور آسمان کی آواز جو خدا تعالیٰ کا پاک الہام تھا جو اس عاجز پر نازل ہوا اس الہام نے بار بار گواہی دی کہ اسلام کی فتح ہے۔ آخر زمین کے شیطانوں نے شکست کھائی اور آسمان کی آواز کی سچائی ثابت ہوئی ۔ یہ ایسی کھلی سچائی ہے جو کوئی اس سے انکار نہیں کر سکتا یہ کیسی نا بینائی تھی کہ پلید ول لوگوں نے شرطی پیشگوئی کو ایسا سمجھ لیا کہ گویا اس کے ساتھ کوئی بھی شرط نہیں ہونے کے بارے میں بہت کچھ ثبوت رسالہ انوار الاسلام اور رسالہ ضیاء الحق اور رسالہ انجام آنقم میں دے چکے ہیں اور اب بھی ہم بیان کر چکے ہیں کہ اس پیشگوئی کی بنیاد نہ آج سے بلکہ پندرہ برس پہلے سے ڈالی گئی تھی ۔ جس کا مفصل ذکر براہین احمدیہ کے صفحہ ۲۴۱ میں موجود ہے۔ سوایسے انتظام کے ساتھ پیشگوئی کو پورا کرنا انسان کا کام نہیں ہے۔ یسوع کی تمام پیشگوئیوں میں سے جو عیسائیوں کا مردہ خدا ہے اگر ایک پیشگوئی بھی اس پیشگوئی کے ہم پلہ اور ہم وزن ثابت ہو جائے تو ہم ہر ایک تاوان دینے کو طیار ہیں ۔ اس درماندہ انسان کی پیشگوئیاں کیا تھیں صرف یہی کہ زلزلے آئیں گے قحط پڑیں گے لڑائیاں ہوں گی پس ان دلوں پر خدا کی لعنت جنہوں نے ایسی ایسی پیشگوئیاں اس کی خدائی پر دلیل ٹھہرائیں اور ایک مردہ کو اپنا خدا بنا لیا۔ کیا ہمیشہ زلزلے نہیں آتے کیا ہمیشہ قحط نہیں پڑتے ۔ کیا کہیں نہ کہیں لڑائی کا سلسلہ شروع نہیں رہتا ۔ پس اس نادان اسرائیلی نے ان معمولی باتوں کا پیشگوئی کیوں نام رکھا۔ محض یہودیوں کے تنگ کرنے سے اور جب معجزہ مانگا گیا تو یسوع صاحب فرماتے ہیں کہ حرامکار اور بدکار لوگ مجھ سے معجزہ مانگتے ہیں ۔ ان کو کوئی معجزہ دکھایا نہیں