انجام آتھم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 287 of 448

انجام آتھم — Page 287

۲۸۷ روحانی خزائن جلد ۱ رسالہ ضمیمہ انجام آتھم کوئی ہمسر ۔ اور عیسائی تیرے ساتھ ایک مکر کریں گے اور خدا بھی ان کے ساتھ مکر کرے گا خدا کے مکر ۳ سراسر نیک اور بہتر اور دوسروں کے مکروں پر غالب ہیں۔ اس وقت عیسائیوں کی طرف سے ایک فتنہ بر پا ہو گا ۔ پس چاہئے کہ تو رسولوں اور نبیوں کی طرح صبر کرے اس وقت تو یہ دعا کر کہ اے میرے رب میرا صدق ظاہر کر دے۔ اب ذرہ آنکھ کھول کر دیکھو کہ یہ پیشگوئی کیسی صریح اور صاف طور پر آتھم کے قصہ کی خبر دے رہی ہے جس میں عیسائیوں نے یہ مکر کیا کہ حقیقت کو چھپایا۔ پیشگوئی میں رجوع الی الحق کی شرط تھی جس سے آتھم نے فائدہ اٹھایا۔ کیونکہ وہ اخیر دن تک پیشگوئی سے ڈرتا رہا۔ یہاں تک کہ مارے ڈر کے دیوانہ کی طرح ہو گیا۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے پیشگوئی کے وعدہ کے موافق اس کی موت میں تا خیر ڈال دی۔ عیسائی خوب جانتے تھے کہ وہ پیشگوئی کے خوف سے نیم جان ہو گیا۔ اس نے قسم نہ کھائی نہ اس نے حملہ کے الزاموں کو ثابت کیا مگر تب بھی پادریوں نے شرارتوں پر کمر باندھی۔ اور امرتسر اور بہت سے دوسرے شہروں میں نہایت شوخی سے ناچتے پھرے کہ ہماری فتح ہوئی اور ان کے نہایت پلید اور بدذات لوگوں نے گالیاں نکالیں اور سخت بد زبانی کی ۔ غرض جیسا کہ پندرہ برس پہلے خدا تعالیٰ فرما چکا تھا کہ عیسائی فتنہ برپا کریں گے۔ ایسا ہی ہوا اور یہودی صفت مولوی اور ان کے چیلے ان کے ساتھ ہو گئے۔ آخر جیسا کہ خدا تعالیٰ نے اس پیشگوئی میں اشارہ فرمایا تھا کہ قُل رَبِّ ادْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ ایسا ہی اس عاجز کا صدق ظاہر ہو گیا اور آتھم جیسا کہ الہام میں بار بارظاہر کیا گیا تھا اپنی بیبا کی کے بعد اخیری اشتہار سے سات مہینے تک فوت ہو گیا۔ اب دیکھنا چاہئے کہ یہ کیسا عظیم الشان نشان ہے۔ اور یہ ایک نشان نہیں بلکہ دونشان ہیں۔ {1} ایک یہ کہ عیسائیوں کے فتنہ کی پندرہ برس پہلے خبر دی گئی ۔ {۲} دوسرے یہ کہ آخر وہ فتنہ برپا ہو کر اس پیشگوئی کے مطابق اور نیز دوسری پیشگوئی کے مطابق آتھم مر گیا اور صدق ظاہر ہوا ۔ اگر ان دونوں پیشگوئیوں کو یکجائی نظر سے دیکھا جائے تو خدا تعالیٰ کی ایک عظیم الشان قدرت نظر کے سامنے آجائے گی اور اس میں ایک اور عظمت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی بھی اس کے پوری حاشیہ۔ ایک مردہ پرست فتح مسیح نام نے فتح گڑھ تحصیل بٹالہ ضلع گورداسپورہ سے پھر اپنی پہلی بے حیائی کو دکھلا کر ایک گندہ اور بد زبانی سے بھرا ہوا خط لکھا ہے۔ جس میں وہ پھر اپنی بے شرمی سے کام لے کر یہ ذکر بھی درمیان لاتا ہے کہ آتھم کی نسبت پیشگوئی پوری نہیں ہوئی ۔ سو ہم اس پیشگوئی کے پورا