انجام آتھم — Page xxxiii
بات کے قائل ہیں کہ یسوع وہ شخص تھا جس نے خدائی کا دعویٰ کیا۔الخ‘‘ (۔روحانی خزائن جلد ۱۱ صفحہ ۲۹۲،۲۹۳ حاشیہ) اور فرمایا کہ :۔’’اگر پادری اَب بھی اپنی پالیسی بدل دیں اور عہد کر لیں کہ آئندہ ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کو گالیاں نہیں نکالیں گے تو ہم بھی عہد کریں گے کہ آئندہ نرم الفاظ کے ساتھ اُن سے گفتگو ہو گی۔ورنہ جو کچھ کہیں گے اُس کا جواب سُنیں گے۔‘‘ (۔روحانی خزائن جلد ۱۱ صفحہ ۲۹۲حاشیہ در حاشیہ ) ۲۔اور فرماتے ہیں :۔’’سو ہم نے اپنے کلام میں ہر جگہ عیسائیوں کا فرضی یسوع مراد لیا ہے۔اور خدا تعالیٰ کا ایک عاجز بندہ عیسیٰ ابن مریم جو نبی تھا جس کا ذکر قرآن میں ہے وہ ہمارے درشت مخاطبات میں ہرگز مراد نہیں۔اور یہ طریق ہم نے برابر چالیس برس تک پادری صاحبوں کی گالیاں سُن کر اختیار کیا ہے۔‘‘ (اشتہار ۲۰ ؍ دسمبر ۱۸۹۵ء۔مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ ۵۳۰جدید ایڈیشن) پھر ایسے معترض مولویوں کا ذکر کر کے جو عیسائیوں کو معذور خیال کرتے اور کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی وہ کچھ بے ادبی نہیں کرتے۔فرماتے ہیں:۔’’ہمارے پاس ایسے پادریوں کی کتابوں کا ایک ذخیرہ ہے جنہوں نے اپنی عبارت کو صد ہا گالیوں سے بھر دیا ہے۔جس مولوی کی خواہش ہو وہ آ کر دیکھ لے۔‘‘ (اشتہار ۲۰ ؍ دسمبر ۱۸۹۵ء۔مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ ۵۳۰ اشتہار نمبر۱۴۳) ۳۔اسی طرح اشتہار ’’قابل توجہ ناظرین‘‘ میں فرماتے ہیں:۔’’اِس بات کو ناظرین یاد رکھیں کہ عیسائی مذہب کے ذکر میں ہمیں اسی طرز سے کلام کرنا ضروری تھا۔جیسا کہ وہ ہمارے مقابل پر کرتے ہیں۔عیسائی لوگ درحقیقت ہمارے اُس عیسیٰ علیہ السلام کو نہیں مانتے جو اپنے تئیں صرف بندہ اور نبی کہتے تھے اور پہلے نبیوں کو راستباز جانتے تھے اور آنے والے نبی حضرت محمد مصطفےٰ صلی اﷲ علیہ وسلم