انجام آتھم — Page xxxii
یَبُوْرُ۔اِنَّا نَکْشِفُ السِّرَّ عَنْ سَاقِہٖ یَوْمَءِذٍ یَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَ۔‘‘(انوار الاسلام روحانی خزائن جلد ۹ صفحہ ۲) یعنی اور مجھے میری عزّت اور جلال کی قسم ہے کہ تُو ہی غالب ہے۔اور ہم دشمنوں کو پارہ پارہ کر دیں گے یعنی اُن کو ذلّت پہنچے گی اور اُن کا مکر ہلاک ہو جائے گا۔اور خدا تعالیٰ بس نہیں کرے گا۔اور باز نہیں آئے گا جب تک دشمنوں کے تمام مکروں کی پردہ دری نہ کرے اور اُن کے مکر ہلاک نہ کر دے۔اور ہم حقیقت کو ننگا کر کے رکھ دیں گے۔اُس دن مومن خوش ہوں گے۔یہ حصّہ وحی الٰہی کا جس عجیب انداز اور ایمان افروز رنگ میں پورا ہوا اس کی تفصیل ہم روحانی خزائن جلد ۱۳ میں پیش لفظ میں بیان کریں گے۔انشاء اﷲ تعالیٰ حضرت عیسیٰ ؑ خدا تعالیٰ کے برگزیدہ نبی تھے ضمیمہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انجیلی بیانات کی بنا پر الزامی رنگ میں یسوع مسیح کے کچھ حالات بیان کئے ہیں جنہیں آپ کے مخالفین بطور اعتراض پیش کرتے ہیں کہ گویا آپؑ نے خدا تعالیٰ کے ایک برگزیدہ نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کی ہے۔مثلاً مولوی مرتضیٰ حسن صاحب دربھنگی نے اپنی کتاب ’’اشد العذاب‘‘ میں اور مولوی احمد علی صاحب نے اپنے کتابچہ کہ’’مسلمان مرزائیوں سے کیوں متنفر ہیں؟‘‘ اور اِ سی طرح مولوی احمد رضا خان صاحب بریلوی اور مولوی محمد علی صاحب کانپوری نے یہی اعتراض کیا ہے۔اس لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اِس جگہ اِس اعتراض کا جواب اختصار سے دے دیا جائے۔یاد رہے کہ ضمیمہ کی جس عبارت کو مذکورہ بالا علماء نے قابل اعتراض قرار دیا ہے اُسی کے آخر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ وضاحت کی ہے:۔۱۔’’کہ ہمیں پادریوں کے یسوع اور اس کے چال چلن سے کچھ غرض نہ تھی۔انہوں نے ناحق ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کو گالیاں دے کر ہمیں آمادہ کیا کہ اُن کے یسوع کا کچھ تھوڑا سا حال اُن پر ظاہر کریں۔۔۔۔۔۔اور مسلمانوں کو واضح رہے کہ خدا تعالیٰ نے یسوع کی قرآن شریف میں کچھ خبر نہیں دی کہ وہ کون تھا۔اور پادری اِس