انجام آتھم — Page 69
روحانی خزائن جلدا ۶۹ رسالہ دعوت قوم کرتا ہوں جن کو میں نے مباہلہ کے لئے بلایا ہے اور میں پھر ان سب کو اللہ جل شانہ کی قسم دیتا ہوں ( 19 ) دیتا کہ مباہلہ کیلئے تاریخ اور مقام مقرر کر کے جلد میدان مباہلہ میں آویں اور اگر نہ آئے اور نہ تکفیر اور تکذیب سے باز آئے تو خدا کی لعنت کے نیچے مریں گے۔ اب ہم ان مولوی صاحبوں کے نام ذیل میں لکھتے ہیں جن میں سے بعض تو اس عاجز کو کا فر بھی کہتے ہیں اور مفتری بھی۔ اور بعض کافر کہنے سے تو سکوت اختیار کرتے ہیں ۔ مگر مفتری اور کذاب اور دقبال نام رکھتے ہیں۔ بہر حال یہ تمام مکفرین اور مکذبین مباہلہ کیلئے بلائے گئے ہیں اور ان کے ساتھ وہ سجادہ نشین بھی ہیں جو مکفر یا مکذب ہیں اور در حقیقت ہر ایک شخص جو باخدا اور صوفی کہلاتا ہے اور اس عاجز کی طرف رجوع کرنے سے کراہت رکھتا ہے وہ مکڈ مین میں داخل ہے۔ کیونکہ اگر مکذب نہ ہوتا تو ایسے شخص کے ظہور کے وقت جس کی نسبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تاکید فرمائی تھی کہ اس کی مدد کرو اور اس کو میر اسلام پہنچاؤ اور اس کے مخلصین میں داخل ہو جاؤ تو ضرور اس کی جماعت میں داخل ہو جاتا۔ اور صاف باطن فقراء کیلئے یہ موقعہ ہے کہ خدا تعالیٰ سے ڈر کر اور ہر یک کدورت سے الگ ہو کر اور کمال تضرع اور ابتہال سے اس پاک جناب میں توجہ کر کے اس راز سر بستہ کا اسی کے کشف اور الہام سے انکشاف چاہیں ۔ اور جب خدا کے فضل سے انہیں معلوم کرایا جائے تو پھر جیسا کہ ان کی اتقاء کی شان کے لائق ہے محبت اور اخلاص اور کامل رجوع سے ثواب آخرت حاصل کریں اور سچائی کی گواہی کیلئے کھڑے ہو جائیں۔ مولویان خشک بہت سے حجابوں میں ہیں کیونکہ ان کے اندر کوئی سماوی روشنی نہیں۔ لیکن جو لوگ حضرت احدیت سے کچھ مناسبت رکھتے ہیں اور تزکیہ نفس سے انانیت کی تاریکیوں سے الگ ہو گئے ہیں۔ وہ خدا کے فضل سے قریب ہیں۔ اگرچہ بہت تھوڑے ہیں جو ایسے ہیں مگر یہ امت مرحومہ ان سے خالی نہیں۔ وہ لوگ جو مباہلہ کیلئے مخاطب کئے گئے ہیں یہ ہیں:۔ مولوی نذیرحسین دہلوی شیخ محمد حسین بٹالوی ایڈیٹر اشاعۃ السنہ مولوی عبدالحمید دہلوی مهستم مطبع انصاری مولوی رشید احمد گنگوہی مولوی عبدالعزیز لدھیانوی مولوی محمد لدھیانوی مولوی عبد الحق و هلوی مؤلف تفسیر حقانی مولوی محمد حسن رئیس لدھیانہ