انجام آتھم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 60 of 448

انجام آتھم — Page 60

۶۰ روحانی خزائن جلد ۱۱ رسالہ دعوت قوم نظر الله إليك معطرًا وَقالُوا أَتَجعَلُ فيها من يفسد فيها قال خدا نے تیرے پر خوشبودار نظر کی اور لوگوں نے دلوں میں کہا کہ اے خدا کیا تو ایسے مفسد کو اپنا خلیفہ بنائے گا إِنِّي أعلمُ مَـالا تـعـلـمـون۔ وقالوا كتـاب مـمــلــى مــن الـكـفـرو خدا نے کہا کہ جو کچھ میں جانتا ہوں تمہیں معلوم نہیں۔ اور لوگوں نے کہا کہ یہ کتاب کفر اور کذب سے بھری الكذب۔ قـل تـعـالَـوا نَدْعُ ابناء نا وابناء كُم وَنساءَ نا وَنساءَ كُم وَ ہوئی ہے ان کو کہہ دے کہ آؤ ہم اور تم اپنے بیٹوں اور عورتوں اور عزیزوں سمیت ایک انفُسَنَا وَانفسَكم ثم نبتهل فنجعل لعنة الله علَى الكَاذِبِينَ۔ جگہ اکٹھے ہوں پھر مباہلہ کریں اور جھوٹوں پر لعنت بھیجیں سلام على ابراهيم صافيناه وَنَجِّينَـاه مـن الـغـم تـفـردنـا بـذالك ابراہیم یعنی اس عاجز پر سلام ہم نے اس سے دلی دوستی کی اور غم سے نجات دی۔ یہ ہمارا ہی کام تھا جو ہم نے کیا۔ يا داؤد عامل بالنّاسِ رفقا واحسانًا۔ تموت وانا راض منگ اے داؤ دلوگوں سے نرمی اور احسان کے ساتھ معاملہ کرے تو اس حالت میں مرے گا کہ میں تجھ سے راضی ہوں گا۔ والله يَعصِمُكَ مِن النّاس كذبوا باياتي و كانوا بها يستهزء ون۔ اور خدا تجھ کو لوگوں کے شر سے بچائے گا۔ انہوں نے میرے نشانوں کی تکذیب کی اور ٹھٹھا کیا فسيكفيكهم الله ويردّها اليك أَمْرٌ مِنْ لَّـدنـا إِنَّا كُنَّا فَاعِلين۔ سوخدا ان کیلئے تجھے کفایت کرے گا۔ اور اس عورت کو تیری طرف واپس لائے گا۔ یہ امر ہماری طرف سے ہے اور ہم ہی کر نیوالے ہیں زوّجناكها الحق من ربك فلا تكونَنَّ مِـن الـمـمـتـريـن۔ لا تبـديـل بعد واپسی کے ہم نے نکاح کر دیا۔ تیرے رب کی طرف سے سچ ہے پس تو شک کرنے والوں سے مت ہو ۔ خدا کے شیخ محمد حسین بطالوی کا یہ اعتراض ہے کہ الہام کا یہ فقرہ کہ یودھا الیک خلاف محاورہ ہے ۔ کیونکہ ردّ کا لفظ اس صورت میں آتا ہے کہ ایک چیز اپنے پاس ہو پھر چلی جائے اور پھر واپس آوے۔ لیکن افسوس کہ اس کو باعث کمی واقفیت علم زبان کے معلوم نہیں کہ یہ لفظ ادنی تعلق کے ساتھ بھی استعمال ہو جاتا ہے۔ اس کی کلام عرب میں ہزاروں مثالیں ہیں جن کے لکھنے کا اس مقام میں موقعہ نہیں چونکہ اس جگہ قرابت قریب تھی اور نزدیک کے رشتہ کے تعلقات نے اپنے پاس کے حکم میں اس کو کیا ہوا تھا۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے ایسا لفظ استعمال کیا جو ان چیزوں کے لئے مستعمل ہوتا ہے جو اپنے پاس سے چلی جائیں اور پھر واپس آوہیں۔ ہاں اس جگہ یہ نہایت لطیف اشارہ تھا کہ خدا نے ردھا کا لفظ استعمال کیا تا معلوم ہو کہ اول اس کا اپنے پاس سے بے تعلق لوگوں میں چلے جانا ضروری ہے پھر واپس آنا تقدیر میں ہے فقط ۔ منہ حلا حاشيه ۔