رسالہ الوصیت — Page 330
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۳۲۶ رسالہ الوصیت (۱۴) جائز ہوگا کہ اس انجمن کی تائید اور نصرت کے لئے دُور دراز ملکوں میں اور انجمنیں ہوں جو ان کی ہدایت کے تابع ہوں ۔ اور جائز ہوگا کہ اگر وہ ایسے ملک میں ہوں کہ وہاں سے میت کو لا نا متعذر ہے تو اُسی جگہ میت کو دفن کر دیں اور ثواب سے حصہ پانے کی غرض سے ایسا شخص قبل از وفات اپنے مال کے دنو میں حصہ کی وصیت کرے اور اُس وصیتی مال پر قبضہ کرنا اُس انجمن کا کام ہو گا جو اُس ملک میں ہے اور بہتر ہوگا کہ وہ روپیہ اُسی ملک کے اغراض دینیہ کیلئے خرچ ہو اور جائز ہوگا کہ کوئی ضرورت محسوس کر کے وہ روپیہ اس انجمن کو دیا جائے جس کا ہیڈ کوارٹر یعنی مرکز مقامی قادیان ہوگا۔ (۱۵) یہ ضروری ہوگا کہ مقام اس انجمن کا ہمیشہ قادیان رہے کیونکہ خدا نے اس مقام کو برکت دی ہے اور جائز ہوگا کہ وہ آئندہ ضرورتیں محسوس کر کے اس کام کے لئے کوئی کافی مکان طیار کریں ۔ (۱۶) انجمن میں کم سے کم ہمیشہ دو نمبر ایسے چاہئیں جو علم قرآن اور حدیث سے بخوبی واقف ہوں اور تحصیل علم عربی رکھتے ہوں اور سلسلہ احمدیہ کی کتابوں کو یا در کھتے ہوں ۔ (۱۷) اگر خدانخواستہ کوئی ایسا شخص جو رساله الوصیة کی رو سے وصیت کرتا ہے مجذوم ہو جس کی جسمانی حالت اس لائق نہ ہو جو وہ اس قبرستان میں لایا جائے تو ایسا شخص حسب مصالح ظاہری مناسب نہیں ہے کہ اس قبرستان میں لایا جائے لیکن اگر اپنی وصیت پر قائم ہوگا تو اُس کو وہی درجہ ملے گا جیسا کہ دفن ہونے والے کو ۔ (۱۸) اگر کوئی کچھ بھی جائیداد منقولہ یا غیر منقولہ نہ رکھتا ہو اور با ایں ہمہ ثابت ہو کہ وہ ایک صالح درویش ہے اور متقی اور خالص مومن ہے اور کوئی حصہ نفاق