رسالہ الوصیت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 329 of 597

رسالہ الوصیت — Page 329

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۳۲۵ رساله الوصیت که گویا وہ اسی قبرستان میں دفن ہوئے ہیں اور جائز ہوگا کہ ان کی یادگار میں اسی قبرستان میں ایک کتبہ اینٹ یا پتھر پر لکھ کر نصب کیا جائے اور اس پر یہ واقعات لکھے جائیں ۔ (9) انجمن جس کے ہاتھ میں ایسا روپیہ ہو گا اس کو اختیار نہیں ہوگا کہ بجز اغراض سلسلہ احمدیہ کے کسی اور جگہ وہ روپیہ خرچ کرے۔ اور ان اغراض میں سے سب سے مقدم اشاعت اسلام ہوگی اور جائز ہوگا کہ انجمن با تفاق رائے اُس روپیہ کو تجارت کے ذریعہ سے ترقی دے۔ (۱۰) انجمن کے تمام ممبر ایسے ہوں گے جو سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوں اور پارسا طبع اور دیانت دار ہوں اور اگر آئندہ کسی کی نسبت یہ محسوس ہوگا کہ وہ پارسا طبع نہیں ہے یا یہ کہ وہ دیانت دار نہیں یا یہ کہ وہ ایک چال باز ہے اور دنیا کی ملونی اپنے اندر رکھتا ہے تو انجمن کا فرض ہوگا کہ بلا توقف ایسے شخص کو اپنی انجمن سے خارج کرے اور اس کی جگہ کوئی اور مقرر کرے۔ (۱۱) اگر وصیتی مال کے متعلق کوئی جھگڑا پیش آوے تو اُس جھگڑے کی پیروی میں جو اخراجات ہوں وہ تمام وصیتی مالوں میں سے دیئے جائیں گے۔ (۱۲) اگر کوئی شخص وصیت کر کے پھر کسی اپنے ضعف ایمان کی وجہ سے اپنی وصیت سے منکر ہو جائے یا اس سلسلہ سے روگردان ہو جائے تو گو انجمن نے قانونی طور پر اس کے مال پر قبضہ کر لیا ہو پھر بھی جائز نہ ہوگا کہ وہ مال اپنے قبضہ میں رکھے بلکہ وہ تمام مال واپس کرنا ہوگا کیونکہ خدا کسی کے مال کا محتاج نہیں اور خدا کے نزدیک ایسا مال مکروہ اور رد کر نے کے لائق ہے۔ (۱۳) چونکہ انجمن خدا کے مقرر کردہ خلیفہ کی جانشین ہے اس لئے اس انجمن کو دنیا داری کے رنگوں سے بکنی پاک رہنا ہو گا اور اس کے تمام معاملات نہایت صاف اور انصاف پر مبنی ہونے چاہئیں ۔