رسالہ الوصیت — Page 319
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۳۱۵ رسالہ الوصیت جو عمارتیں بناتے جائیں گے ہم اُن کو گراتے جائیں گے۔ اور پھر فرمایا بھونچال آیا اور شدت سے آیاز میں تہ و بالا کر دی ۔ یعنی ایک سخت زلزلہ آئے گا اور زمین کو یعنی زمین کے بعض حصوں کوزیروز بر کر دے گا جیسا کہ لوط کے زمانہ میں ہوا ۔ اور پھر فرمایا اِنِّى مَعَ الْأَفْوَاجِ اتِيكَ بغتة یعنی میں پوشیدہ طور پر فوجوں کے ساتھ آؤں گا اُس دن کی کسی کو بھی خبر نہیں ہوگی جیسا کہ لوط کی بستی جب تک زیروز بر نہیں کی گئی کسی کو خبر نہ تھی اور سب کھاتے پیتے اور عیش کرتے تھے کہ ناگہانی طور پر زمین اُلٹائی گئی ۔ پس خدا فرماتا ہے کہ اس جگہ بھی ایسا ہی ہوگا کیونکہ گناہ حد سے بڑھ گیا اور انسان حد سے زیادہ دنیا سے پیار کر رہے ہیں اور خدا کی راہ تحقیر کی نظر سے دیکھی جاتی ہے اور پھر فرمایا زندگیوں کا خاتمہ ۔ اور پھر مجھے مخاطب کر کے فرمایا قَالَ رَبُّكَ إِنَّهُ نَازِلُ مِنَ السَّمَاءِ مَا يُرْضِيْكَ رَحْمَةً مِنَّا وَكَانَ أَمْرًا مَّقْضِيًّا یعنی تیرا رب کہتا ہے کہ ایک امر آسمان سے اُترے گا جس سے تو خوش ہو جائے گا یہ ہماری طرف سے رحمت ہے اور یہ فیصلہ شدہ بات ہے جو ابتدا سے مقدر تھی اور ضرور ہے کہ آسمان اس امر کے نازل کرنے سے رکا ر ہے جب تک کہ یہ پیشگوئی قوموں میں شائع ہو جائے ۔ کون ہے جو ہماری باتوں پر ایمان لا وے بجز اس کے کہ خوش قسمت ہو۔ یادر ہے کہ یہ اعلان تشویش کے پھیلانے کے لئے نہیں بلکہ آئند و تشویش کی پیش بندی کے لئے ہے تا کوئی بے خبری میں ہلاک نہ ہو۔ ہر ایک امر نیت سے وابستہ ہے پس ہماری نیت دکھ دینے کی نہیں بلکہ دکھ سے بچانے کی نیت ہے۔ وہ لوگ جو تو بہ کرتے ہیں خدا کے عذاب سے بچائے جائیں گے مگر وہ بد قسمت جو تو یہ نہیں کرتا اور ٹھٹھے کی مجلسوں کو نہیں چھوڑتا اور بدکاری اور گناہ سے باز نہیں آتا اُس کی ہلاکت کے دن نزدیک ہیں کیونکہ اُس کی شوخی خدا کی نظر میں قابل غضب ہے۔ اس جگہ ایک امر اور قابل تذکرہ ہے کہ جیسا کہ میں پہلے بیان کر چکا ہوں کہ خدا نے