اَلھُدٰی — Page 313
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۳۰۹ الهدى الهم لللب والحقيقة وليست فرائضهم أزيد من أن رہتے ہیں۔ پس انہیں مغز اور حقیقت سے کیا نسبت ۔ اُن کا فرض اس سے زیادہ نہیں کہ اسلام يحسنوا الانتظام لحفظ ثغور الإسلام ويتعهدوا ظواهر کی سرحدوں کی نگہداشت کا اچھا انتظام کریں۔ اور ظاہر ملک کی خبر گیری کر کے دشمنوں کے الملک و یعصموه من براثن الأعداء اللئام، وأما بواطن پنجوں سے اسے بچائیں۔ رہے لوگوں کے باطن اور ان کا پاک کرنا میل کچیل سے۔ اور بچانا الناس۔ وتطهيرها من الأدناس وتنجية الخلق من شر الوسواس | لوگوں کو شیطان سے۔ اور ان کی نگہبانی کرنا آفتوں سے دعاؤں کے ساتھ اور الخنّاس۔ وحفظهم من الآفات بعقد الهمّة والدعوات۔ فهذا أمر أرفع (۱۴ عقد ہمت کے ساتھ معاملہ بادشاہوں کی طاقت اور ہمت سے باہر اور سو من طاقة الملوک و هممهم كما لا يخفى على ذوى الحصاة۔ وما بالا تر ہے اور دانشمندوں پر یہ بات پوشیدہ نہیں۔ اور بادشاہوں کو ملک کی باگ فوّضَ زمام الملك إلى أيدى السلاطين إلا لحفظ الصور الإسلامية اس لئے سپرد کی جاتی ہے کہ وہ اسلامی صورتوں کو شیاطین کی دستبرد سے من بطش الشياطين ۔ لا لتزكية النفوس وتنوير العمين۔ فما كان بچائیں۔اس لئے نہیں کہ وہ نفوس کو پاک صاف کریں اور آنکھوں کو نورانی بنائیں۔ مبلغ جهدهم إلا أن تدفع إليهم الخراج بالجبر أو التراضى۔ اصل میں ان کی بڑی کوشش یہی ہے کہ ان کو طوعاً وکرہاً خراج دیا جاوے اور ان کے ويرتب الديوان الذي تُحصى فيه مقادير الأراضي۔ وان ہاں ایسے دفتر مرتب ہوں جن میں زمینوں کی مقدار میں ضبط رہیں۔ اور دشمنوں تهيأ جنود بحذة عساكر الأعداء ۔ وأن ينصب فوج للسياسات کی فوجوں کے مقابل فوجیں آمادہ اور آراستہ رہیں۔ اور اندرونی سیاست اور امور انتظامیہ