اَلھُدٰی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 302 of 822

اَلھُدٰی — Page 302

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۲۹۸ الهدى بعد تهافتها وبعد ما ظهر من الاختلال۔ ولكل موطن رجال كما اس قدر تباہی اور پریشانی کے بعد ملت کی حالت کو درست کر لیں گے ۔ اور تم جانتے ہو کہ ہر تعلمون۔ وهل يُرجى إحياء الناس من الميت أو الهداية من الضال۔ میدان کے لئے خاص خاص مرد ہوا کرتے ہیں اور کیا ممکن ہے کہ مردہ دوسروں کو زندہ کر سکے أو المطر من الجهام أو الولوج فى سم الخياط من الجمال۔ یا گمراہ دوسروں کو ہدایت دے یا خشک بادل سے بارش اور اونٹ کا سوئی کے ناکے میں داخل ۵۳) فكيف منهم تتوقعون ۔ وتالله إنا لا نتوقع صلاحهم حتى ہونا ممکن ہے تو پھر ان سے کیا اُمید رکھ سکتے ہو۔ ہمیں تو امید نہیں کہ وہ سنور جائیں جب تک يوقظهم الاحتضار ۔ ولكن نُدِب إلينا الاذكار ۔ وإنا لا نحسبهم إلا انہیں موت ہی آکر بیدار نہ کرے۔ ہاں وعظ و پند کرنے کا ہمیں حکم ہے اور ہم تو انہیں ان كطير محلّق لا يُصاد۔ أو كعمر لا يُستعاد۔ أو كخفافيش خربت پرندوں کی طرح سمجھتے ہیں جو ہوا میں اڑتے اور پکڑے نہیں جاتے یا عمر کی طرح جو واپس نہیں منها البلاد۔ أو كبلدة ما أصابها العهاد۔ أو كظل غير ظليل لا تأوى آتی یا ان چمگادڑوں کی طرح جن سے شہر ویران ہو گئے یا اس شہر کی طرح جس پر مینہ نہ برسا ہو إليه العباد أو كسم قطعت منه الأكباد۔ عظمت صدمة یا اس بے برکت سایہ کی طرح جس کے نیچے لوگ آرام نہیں پاتے یا اس زہر کی طرح جس سے عثرتهم۔ وما أرى من يُقلهم من صرعتهم۔ تراء وا جگر پارہ پارہ ہو جاتے ہیں۔ ان کی ٹھوکر کا صدمہ بڑا بھاری ہے اور کوئی ایسا نظر نہیں آتا جو ان كحطب لا كأشجار ذات الثمار ۔ والحطب لا يليق إلا گرتوں کو سنبھالے ۔ وہ خشک لکڑیاں ہیں پھلدار درخت نہیں۔ اور ایندھن تو آگ کیلئے موزوں للنار۔ فقدوا قوة الفراسة۔ وأصول السياسة۔ وأرادوا أن يتعلموا ہوتا ہے ان میں فراست کی قوت اور اصول ملک داری کا علم نہیں ۔ انہوں نے چاہا کہ اپنے عیسائی