اَلھُدٰی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 259 of 822

اَلھُدٰی — Page 259

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۲۵۵ الهدى بلسانكم وقد هبت عليه صراصر عُظمى واليوم لستم إلا كعجمي فریفتہ ہو حال آنکہ اس پر تو بڑی بڑی آندھیاں چل چکی ہیں اور آج نم فلا تفخروا بما مضى۔ وبدلت ألسنكم كل التبديل فأنى التناوش من عجمیوں سے بڑھ کر نہیں۔ سو گذشتہ پر فخر نہ کرو۔ اور تمہاری بولیاں تو بالکل بدل مكان أقصى؟ أتنسون محاوراتكم أو تخدعون الحمقى؟ وإن رسول گئیں۔اب تم اتنی دور سے کہاں ایک چیز کو پکڑ سکتے ہو۔ کیا تمہیں اپنی الله وسيد الورى ما سمى أرضكم هذه ارض العرب فلا تفتروا بول چال یاد نہیں یا احمقوں کو دھوکا دیتے ہو۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے على الله ورسوله وقد خاب من افترى فدعنى أيها الفخور من هذا تمہارے ملک کو عرب میں شامل نہیں فرمایا۔ پھر خدا اور رسول پر افترا نہ کرو اور وامض على وجهك والسلام على من اتبع الهدى ۔ مفتری ہمیشہ نامراد رہتا ہے۔ سواے شیخی باز مجھے تجھ سے کیا کام چل اپنی راہ لے۔ وكنت رجوتُ أن أجد عندك نصرتی، فقمت لتندّد بهواني مجھے تو تجھ سے نصرت کی امید تھی تو الٹا میرے ہی خوار کرنے کو اٹھ کھڑا وذلتي ۔ وتوقعتُ أن يصلني منك تكبير التصديق والتقديس ہوا۔ اور مجھے تیری طرف سے تکبیر تصدیق اور تقدیس سننے کی توقع تھی تو نے مجھے فأسمعتنى أصوات النواقيس۔ وظننتُ أن أرضك للتحصّن | ناقوسوں کی آوازیں سنادیں اور میں نے تیری زمین کو پناہ کے لئے بہت أحسن المراكز فجرحتنى كاللاكز والواكز۔ وذكرتنی عمدہ جگہ سمجھا تھا مگر تو نے مجھے مشت زن یا لکد زن کی طرح زخمی کر دیا اور بالنـوش والنهش والسبعية۔ نبدا من أيام الخصائل الفرعونية۔ و تو نے اس درندہ طبعی سے فرعونی خصلتوں کا زمانہ مجھے یاد دلا دیا۔ اور