اَلھُدٰی — Page 258
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۲۵۴ الهدى كما هو سيرة الكرام۔ وعَمَدَ إلى أن يُؤلمني ويفضحني في أعين کی طرف رخ نہ کیا اور قصد کیا کہ عوام کی نگاہ میں مجھے رنج پہنچائے اور بد نام کرے۔ پس وہ بلند (9) العوام كالأنعام فسقط من المنار المنيع وألقى وجوده في الآلام منار سے گرا اور اپنے آپ کو دکھوں میں ڈالا ۔ اور مجھے سنگریزوں کی طرح پاؤں کے نیچے روندا اور ووطئني كالحصى۔ واستوقد نار الفتن وحضى۔ وقال ما قال وما فتنوں کی آگ کو بجھ جانے کے بعد پھر بھڑ کا یا اور کہا جو کہا اور دانشمندوں کی طرح غور نہیں کی ۔ اور أمعن كأولى النهى ۔ وأخلد إلى الأرض وما استشرف كأهل التقى۔ زمین کی طرف جھک پڑا اور متقیوں کی طرح اوپر کو نہ چڑھا اور اونچا ہونے بعد گرا ۔ اور گرنا تو وخر بعد ما علا۔ وإن الخرور شيء عظيم فما بال الذي من المنار خود بڑی خوفناک بات ہے۔ پھر اس شخص کا کیا حال جو منار سے گرا ۔ اور گمراہی کو خریدا اور ہدایت هواى واشترى الضلالة وما اهتدى أم له في البراعة يد طولى؟ نہ پائی۔ آیا فصاحت و بلاغت میں اسے بڑا کمال حاصل ہے؟ عنقریب وہ گریز کر جائے گا اور پھر سُيُهزم فلا يُرَى نباً من الله الذى يعلم السر وأخفى۔ إنه مع قوم نظر نہ آئے گا۔ یہ پیشگوئی ہے خدا کی طرف سے جو نہاں در نہاں کو جاننے والا ہے۔ وہ متقیوں يتقونه ويُحسنون الحسنى۔ ينصرهم فى مواطن فتكون كلمتهم هي اور نیکوکاروں کا ساتھ دیتا ہے۔ وہ میدانوں میں ان کی مدد کرتا ہے پھر ان ہی کی بات غالب العليا۔ وإن الألسنة كلها لله فيجعل حظا منها لمن شاء وقضى۔ وإن رہتی ہے۔ اور ساری بولیاں خدا کی ہیں جسے چاہتا ہے ان سے کافی حصہ عطا کرتا ہے اور اس کے عباده المنقطعين ينطقون بروحه ولا يُعطى لغيرهم هذا الهدى وكل منقطع بندے اس کی روح کی مدد سے بولتے ہیں اور یہ راہ حق دوسروں کو نہیں دی جاتی ۔ اور ہر ایک نور نور ينزل من السماء فما بيدكم أيها النوكي؟ أتغترون آسمان سے اترتا ہے پھر اے جاہلو تمہارے ہاتھ میں کیا ہے۔ کیا تم اپنی بولی