اَلْحق مباحثہ لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 57 of 598

اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 57

۵۷ مباحثہ لدھیانہ روحانی خزائن جلد ۴ رسول صلی اللہ علیہ وسلم تم کو دے ۔ قرآن ہو خواہ وحی غیر متلو حدیث وہ لے لو اور جس سے رو کے یعنی جو حکم کسی (۵۵) چیز کے عدم استعمال کی نسبت دے گو وہ حکم قرآن میں نہ ہو اس سے رک جاؤ۔ اس ارشاد قرآن کی ہدایت و شہادت سے حضرت ابن مسعود نے وشم (جسم کو گود نے ) پر لعنت کی وعید کو جوصرف حدیث میں وارد ہے قرآن میں داخل قرار دیا۔ اس پر ایک عورت اُم یعقوب نے اعتراض کیا کہ یہ لعنت قرآن کریم میں کہیں نہیں ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ جس حالت میں لعنت حدیث میں وارد ہے تو بحکم آیت وَمَا أَنتُكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ یہ قرآن کریم میں وارد ہے۔ چنانچہ حیح مسلم میں ہے۔ عن عبدالله قال لعن الله الواشمات والمستوشمات والمتنمصات و المتفلجات للحسن المغيرات لخلق الله قال فبلغ ذلك امرأة من بنى اسد يقال لها ام يعقوب وكانت تقرأ القرآن فاتته فقالت ما حديث بلغنی عنک انک لعنت الواشمات والمستوشمات والمتنمصات والمتفلجات للحسن المغيرات لخلق الله فقال عبدالله ومالى لا العن من لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو فى كتاب الله عز وجل فقالت امرأة لقد قرات مابين لوحى المصحف فما وجدته فقال لئن كنت قرأته لقد وجدته قال الله عزّوجل وما اتاكم الرسول فخذوه ومانهاكم عنه فانتهوا - ج ۱۔ جناب صاحب الحدیث صلعم نے اسی ارشاد قرآنی کے موافق ارشاد کیا ہے و عن المقداد ابن معد يكرب قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم الا انى اوتيت القرآن ومثله معه الایوشک رجل شبعان على اريكته يقول علیکم بهذا القرآن فما وجدتم فيه من حلال فاحلوه وما وجدتم فيه من حرام فحرموه وانما حرم رسول الله صلى الله عليه وسلم كما حرم الله الا لا يحل لكم الحمار الاهلى ولاكل ذي ناب من السباع ولا لقطة معاهد الا ان يستغنى عنها صاحبها ومن نزل بقوم فعليهم ان يقروه فان لم يقروه فله ان يعقبهم بمثل قراه رواه ابوداؤد طیبی نے شرح مشکوۃ میں کہا ہے فی هذا الحديث توبيخ و تقريع ينشأ من غضب عظيم على من ترك السنة وما عمل بالحديث استغناء عنها بالكتب ۔ اس حدیث کو دارمی نے بھی نقل کیا ہے اور اس سے یہ مسئلہ استنباط کیا ہے السنة قاضية على كتاب اللہ ۔ یعنی حدیث ان وجوہات اختلافات قرآن کا فیصلہ کرنے والی ہے جو کتاب کے معانی مختلفہ سے لوگوں کے خیال میں آتے ہیں پھر امام کي ابن ابی کثیر سے نقل کیا ہے قال السنة قاضية على القرآن وليس القرآن بقاض على السنة يعنى حدیث قرآن کے وجوہات اختلافات کا فیصلہ کرنے والی ہے اور قرآن ایسا نہیں کرتا کہ وہ حدیث کے وجوہ اختلاف کا فیصلہ کرے یعنی اس لئے کہ خدمت خادم کا کام ہے نہ مخدوم کا۔ اور دارمی نے حسان الحشر : سے متن میں حدیث کے یہ الفاظ سہواً کتابت ہونے سے رہ گئے ہیں۔ ناشر