اَلْحق مباحثہ لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 56 of 598

اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 56

روحانی خزائن جلد ۴ مباحثہ لدھیانہ (۵۴) اس کے جواب میں اخیر یہی کہو گے کہ حدیث یا صاحب حدیث نے ۔ دوسرا یہ سوال کہ وہ تعامل کن کن صورتوں پر ہوا ہے اتفاقی پر یا اختلافی پر ۔ صرف اتفاقی صورتوں میں اس کو منحصر کرو گے تو آپ کو نماز پڑھنا مشکل ہو جائے گا۔ اختلافی صورتوں پر تعامل کا دعوی کرو گے تو اختلاف موجب تساقط ہوگا یا آخر اس اختلاف کا تصفیہ احادیث صحیحہ سے ہوگا جو آپس میں متوافق ہو سکتی ہیں۔ اب ہم ایک دو ایسی مثالیں پیش کرتے ہیں جن میں آپ کو تعامل کا اشتباہ نہ ہو قرآن کریم نے حرام جانوروں کو (جیسے خنزیرو منخنقه وغیره) حرام فرما کر ان کے ماسوا جانوروں کو حلال کر دیا ہے۔ آیت قُلْ لَا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَى مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِي يُطْعَمُةَ إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَّسْفُوحًا الآية۔ هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا ہے ملاحظہ ہوں ۔ اور بعض جانوروں کی حرمت کا بیان اپنے خادم حدیث یا صاحب الحدیث صلعم کے حوالہ کر دیا۔ وبناء علیہ اس نے ظاہر کر دیا کہ علاوہ ان جانوروں کے جن کی حرمت کا بیان قرآن میں ہے گدھا اور درندے حرام ہیں۔ اب فرمائیے اس حکم گدھے اور درندوں کی حرمت کی تفسیر قرآن کریم نے خود کہاں فرمائی ہے اس پر وقوع تعامل کا بھی آپ دعویٰ نہیں کر سکتے گدھے وغیرہ درندوں کی حرمت کا اعتقاد یا اس کے استعمال کا ترک کوئی عمل نہیں ہے جس پر تعامل کا ادعا ہو سکے حدیث کو یہ خدمت تفسیر و فیصلہ وجوہات قرآن کریم نے خود عطا فرمائی ہے اور صاحب الحدیث مسلم نے بھی اپنے کلام میں جس کو حدیث کہا جاتا ہے اس خدمت کے عطا ہونے کا اظہار کیا ہے ۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے۔ وَمَا الكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهُكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا اس مضمون کی آیات قرآن میں اور بہت ہیں مگر ہم آپ کی طرح ان سب کو شمار کر کے تطویل کلام نہیں کرنا چاہتے ۔ یعنی اے مسلمانو! جو کچھ مولوی صاحب آیتیں نہیں لکھتے تطویل کلام سے ڈرتے ہیں مگر حدیثیں اتنی گن دی ہیں اور ان پر تفریعات اس قدر کی ہیں کہ مبصر اور کلام بر حل کا شیفتہ ملول ہو جاتا ہے۔ اللہ اللہ ! مـــن ضحك ضحک خدا جانے ہمارے شیخ صاحب کی دانش کو کیا ہو گیا ہے کوئی ان سے پوچھے اس قدر نقل اقوال سے آپ کا مدعا کیا ہے کیا یہ سب حدیثیں تعامل کے سلسلہ کی نہیں ہیں؟ اور یہ سب اقوال مرزا صاحب کی تقسیم احادیث کی مؤید نہیں ؟ مولوی صاحب آپ کا سرمایہ علمی یہی نقل اقوال ہے اگر اقوال آپ کے مضمون سے کوئی نکال لے تو غالباً آپ کا طبع زاد اصلی مضمون چند سطر میں رہ جاوے۔ فضول گوئی سے باز آئیے اور سچے ولی اللہ کے حضور میں (جسے آپ پہلے بصدق دل مان چکے ہیں ) زانوئے استفاضہ و استفادہ ٹھیک کر بیٹھئے ۔ انصاف سے دیکھئے کیا وسیع مضمون لکھا ہے اور اللہ تعالیٰ کی تعلیم وتفہیم سے لکھا ہے نہ یہ کہ زید وعمر کی کتابوں اور یہاں وفلاں کے اقوال سے اپنے مضمون کو بے قدر کیا ہو ۔ اس مجدد کا سرمایہ اور گل سرسبد فرقان حمید اور قرآن مجید ہے وہ اسی سے لیتا ہے اور اسی سے لے کر دیتا ہے وہ ان علموں کو جن پر آپ ایسے لوگوں کو ناز ہے اور جن کا دوسرا نام نقل اقوال علماء ہے حقارت سے دیکھتا ہے اور فرماتا ہے۔ علم آن بود که نور فراست رفیق اوست۔ ایسں علم تیرہ را بہ پشیزرے نے خرم ۔ ایڈیٹر حاشیه الانعام: ٢۱۴۶ البقرة : ٣٣٠ الحشر : ٨