اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 56
روحانی خزائن جلد ۴ ۵۶ مباحثہ لدھیانہ ۵ اس کے جواب میں اخیر یہی کہو گے کہ حدیث یا صاحب حدیث نے ۔ دوسرا یہ سوال کہ وہ تعامل کن کن صورتوں پر ہوا ہے اتفاقی پر یا اختلافی پر ۔ صرف اتفاقی صورتوں میں اس کو منحصر کرو گے تو آپ کو نماز پڑھنا مشکل ہو جائے گا۔ اختلافی صورتوں پر تعامل کا دعوی کرو گے تو اختلاف موجب تساقط ہو گا یا آخر اس اختلاف کا تصفیہ احادیث صحیحہ سے ہوگا جو آپس میں متوافق ہو سکتی ہیں۔ اب ہم ایک دو ایسی مثالیں پیش کرتے ہیں جن میں آپ کو تعامل کا اشتباہ نہ ہو قرآن کریم نے حرام جانوروں کو ( جیسے خنزیر و منخنقه وغیره) حرام فرما کر ان کے ماسوا جانوروں کو حلال کر دیا ہے۔ آیت قُلْ لَا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَى مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَّسْفُوحًا اَوْ دَمًا مَّسْفُوحًا الآية۔ هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا ہے ملاحظہ ہوں ۔ اور بعض جانوروں کی حرمت کا بیان اپنے خادم حدیث یا صاحب الحدیث صلعم کے حوالہ کر دیا۔ وبناء عليہ اس نے ظاہر کر دیا کہ علاوہ ان جانوروں کے جن کی حرمت کا بیان قرآن میں ہے گدھا اور درندے حرام ہیں ۔ اب فرمائیے اس حکم گدھے اور درندوں کی حرمت کی تفسیر قرآن کریم نے خود کہاں فرمائی ہے اس پر وقوع تعامل کا بھی آپ دعویٰ نہیں کر سکتے گدھے وغیرہ درندوں کی حرمت کا اعتقاد یا اس کے استعمال کا ترک کوئی عمل نہیں ہے جس پر تعامل کا ادعا ہو سکے حدیث کو یہ خدمت تفسیر و فیصلہ وجوہات قرآن کریم نے خود عطا فرمائی ہے اور صاحب الحدیث صلعم نے بھی اپنے کلام میں جس کو حدیث کہا جاتا ہے اس خدمت کے عطا ہونے کا اظہار کیا ہے ۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے۔ وَمَا الكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهُكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا سے اس مضمون کی آیات قرآن میں اور بہت ہیں مگر ہم آپ کی طرح ان سب کو شمار کر کے تطویل کلام نہیں کرنا چاہتے ۔ یعنی اے مسلمانو! جو کچھ مولوی صاحب آیتیں نہیں لکھتے تطویل کلام سے ڈرتے ہیں مگر حدیثیں اتنی گن دی ہیں اور ان پر تفریعات اس قدر کی ہیں کہ مبصر اور کلام برمحل کا یہ لی ہیں کہ مبصر اور کلام برمحل کا شیفتہ ملول ہو جاتا ہے۔ اللہ اللہ ! من ضحك ضحک خدا جانے ہمارے شیخ صاحب کی دانش کو کیا ہو گیا ہے کوئی ان سے پوچھے اس قدر نقل اقوال سے آپ کا مدعا کیا ہے کیا یہ سب حدیثیں تعامل کے سلسلہ کی نہیں ہیں؟ اور یہ سب اقوال مرزا صاحب کی تقسیم احادیث کی مؤید نہیں؟ مولوی صاحب آپ کا سرمایہ علمی یہی نقل اقوال ہے اگر اقوال آپ کے مضمون سے کوئی نکال لے تو غالباً آپ کا طبع زاد اصلی مضمون چند سطریں رہ جاوے۔ فضول گوئی سے باز آئے اور سچے ولی اللہ کے حضور میں ( جسے آپ پہلے بصدق دل مان چکے ہیں) زانوئے استفاضہ و استفادہ ٹیک کر بیٹھئے ۔ انصاف سے دیکھئے کیا وسیع مضمون لکھا ہے اور اللہ تعالیٰ کی تعلیم و تفہیم سے لکھا ہے نہ یہ کہ زید و عمر کی کتابوں اور بہماں وفلاں کے اقوال سے اپنے مضمون کو بے قدر کیا ہو۔ اس مجدد کا سرمایہ اور گل سرسبد فرقان حمید اور قرآن مجید ہے وہ اسی سے لیتا ہے اور اسی سے لے کر دیتا ہے وہ ان علموں کو جن پر آپ ایسے لوگوں کو ناز ہے اور جن کا دوسرا نام نقل اقوال علماء ہے حقارت سے دیکھتا ہے اور فرماتا ہے۔ علم آن بود کہ نورفر است رفیق اوست ۔ این علم تیره را به چشیرے نمے خرم ۔ ایڈیٹر حاشيه ا الانعام: ١٤٦ ٢ البقرة : ٣٣٠ الحشر : ٨