اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 55
روحانی خزائن جلد ۴ ۵۵ مباحثہ لدھیانہ کہ علماء اسلام قاطبة حدیث کی صحت قوانین روایت سے ثابت کرتے ہیں اور بعد تسلیم صحت و حصول فراغ ۵۳ از تصفیہ صحت اس حدیث کے قرآن سے تطبیق کرتے ہیں وہ بھی ایسے طور پر کہ امام قرآن ہی رہے اور احادیث اس کی خادم و مفسر و مترجم و فیصله کننده وجوه اختلاف در نظر اشخاص قاصر الانظار رہیں ۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ صرف توافق مضمون کسی حدیث کا اس کی صحت کا موجب ہو تو اس سے لازم آتا ہے کہ موضوع حدیثیں اگر ان کے مضامین صادق اور قرآن کے مطابق ہوں صحیح متصور ہوں جس کا کوئی مسلمان قائل نہیں اس کے مقابلہ میں جو آپ نے کہا ہے کہ قرآن خود اپنا مفسر ہے حدیث اس کی مفسر نہیں ہو سکتی اس سے بھی آپ کی نا واقفیت اصول مسائل اسلام سے ثابت ہوتی ہے۔ قرآن مجید نے خود حدیث کو اپنا خادم و مفسر قرار دیا ہے۔ خدا تعالیٰ نے قرآن مجید میں بعض احکام ایسے طور پر بیان کئے ہیں کہ وہ بلا تفصیل صاحب حدیث صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی مسلمان مخاطب قرآن کی سمجھ میں نہ آتے اور نہ وہ دستور العمل ٹھہرائے جاسکتے ایک حکم نماز ہی کو دیکھ لو قر آن میں اس کی نسبت صرف یہ ارشاد ہے ۔ اقیمو الصلوۃ اور کہیں اس کی تفسیر نہیں ہے کہ نماز کیونکر قائم کی جائے صاحب الحدیث آنحضرت صلعم (بابی هو وامی ) نے قولی و فعلی حدیثوں سے بتایا کہ نمازیوں پڑھی جاتی ہے تو وہ حکم قرآن سمجھ وعمل میں آیا۔ آپ کہیں گے کہ یہ کیفیت نماز تعامل سے ثابت ہے اس پر سوال کیا جائے گا کہ تعامل کب سے شروع ہوا اور جس طریق پر تعامل ہوا وہ طریق کس نے بتایا۔ بقيه حاشيه کہ مسیح موعود اس وقت آتا ۔ قرآن کے نام سے چڑ اور ضد پیدا ہوتی ہے وہ جو دوسروں کو قدم قدم پر بے باکی سے مشرک کہتے تھے اب خود شرک بالقرآن کی مرض میں مبتلا ہو گئے ہیں حق تو یہ تھا اور ادب کی غایت یہ تھی کہ اس جمله کوسن کر کہ قرآن معیار احادیث کی صحت کا ہے۔ تا دب قرآن کی نظر سے توقف کرتے کونسی چیز انہیں ستاتی ہے کونسی پیش بندی ان کی بغلوں میں گدگدی کرتی ہے کہ وہ انسانی ہاتھوں کی فرسودہ اور غیر معصوم کتابوں کی حمایت کی خاطر کلام اللہ شریف کے پیچھے پنجے جھاڑ کر پڑ گئے ہیں۔ واویلا ! وا مصيتاه! تَكَادُ السَّمَوتُ يَتَفَهَّرْنَ مِنْهُ وَتَنْشَقُ الْأَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَذَا ، اب عامہ مقلدہ کی کیا شکایت ہے جو کہا کرتے ہیں کہ قرآن کے معنے کرنے اور صرف قرآن پر چلنے سے ایمان جاتا رہتا ہے۔ اے مولوی صاحب کاش آپ مینڈک کی طرح کنوئیں سے باہر نکل کر دنیا کے جدیدہ علوم اور مذاہب عالم اور ان کے اسلام پر اعتراضات سے واقف ہوتے تو آپ کو معلوم ہوتا کہ آپ اس اصول سے جو قرآن کو حدیث سے موخر کر رہے ہیں کیسی خرابی اسلام میں پیدا کر رہے ہیں اور اسلام کو لا جواب اعتراضات کا مورد بنا رہے ہیں حضرت وہ قرآن کریم ہے جسے ہاتھ میں لے کر ہم مذاہب باطلہ عالم کا مقابلہ کر سکتے ہیں نادان دوستوں سے خدا بچائے ۔ (ایڈیٹر ) مریم : ۹۱