اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 54
روحانی خزائن جلد ۴ ۵۴ مباحثہ لدھیانہ (۵۲) معیار صحت قوانین روایت کو ٹھہرایا ہے مگر انہوں نے اس کو کامل معیار نہیں کہا اور نہ قرآن کریم سے مستغنی کرنے والا بتایا ہے اور اس دعوے کی تائید میں متعدد تحریروں میں متعدد آیات کو ذکر کیا ہے جن میں قرآن مجید کے محامد علیہ وفواضل سنیہ مسلمہ اہل اسلام کا ذکر ہے۔ مہربان من محدثین کیا کوئی محق مسلمان حنفی یا شافعی مقلد یا غیر مقلد تصیح روایات حدیثیہ کا معیار قرآن کریم کو نہیں ٹھیرا تا اور یہ نہیں کہتا کہ جب کسی حدیث کی صحت پر کھٹی ہو تو اس کو قرآن کریم کی موافقت یا مخالفت سے متحیح یا غیر صحیح قراردیں بلکہ معیار تصحیح وہ قوانین روایت ٹھہراتے ہیں کہ از انجملہ کسی قدر بیان ہو چکے ہیں۔ اس کی وجہ معاذ الله لم عياذاً بالله یہ نہیں کہ قرآن مجید مسلمانوں کا حکم و تیمن نہیں یا وہ امام حبل المتین نہیں۔ کوئی مسلمان جو قرآن پر اعتقاد رکھتا ہے یہ نہیں سمجھتا اور اگر کوئی ایسا سمجھے تو وہ سخت کافر ہے ۔ ابو جہل کا بڑا بھائی نہ چھوٹا کیونکہ ابو جہل نے تو قرآن مجید کو تسلیم ہی نہیں کیا تھا یہ کا فرقرآن پر ایمان لا کر اس کو اپنا نہیں بناتا اور حکم نہیں سمجھتا۔ ایسا شخص در حقیقت قرآن پر ایمان نہیں رکھتا اگر بظاہر مدعی ایمان ہو۔ آپ نے ناحق و بلا ضرورت ان آیات قرآنیہ کو ہمارے سوال کے جواب میں پیش کیا جن میں قرآن مجید کے یہ محامد علیہ وارد ہیں اور ان کے بے ضرورت نقل و بیان سے اپنے اور ہمارے اوقات کا خون کیا بلکہ توافق قرآن کو معیار صحت نہ ٹھہرائے اور اس باب میں اصول روایت کی طرف رجوع کرنے کی دو وجہ ہیں ایک وجہ یہ ہے کہ جو احادیث ان اصول روایت سے بیج ہو چکی ہوں وہ خود بخو دقرآن مجید کے موافق ہوتی ہیں اور ہرگز ہرگز وہ قرآن کے مخالف نہیں ہوتیں۔ قرآن امام ہے اور وہ احادیث خادم قرآن اور اس کی وجوہات کے مفسر و مبین اور ان وجوہات معانی قرآن کے جو کم فہم و قاصر الفکر لوگوں کے خیال میں متعارض معلوم ہوتی ہیں فیصلہ کرنے والی ہیں جس حالت میں ایک حدیث صحیح دوسری حدیث صحیح کے مخالف نہیں ہوتی اور ان کی باہم تطبیق ممکن ہے۔ چنانچہ امام الائمہ ابن خزیمہ سے منقول ہے۔ لا اعرف انه روی عن النبي صلعم حديثان باسنادين صحيحين متضادين فمن كان عنده فلیاتینی به لأولف بينهما تو پھر کسی حدیث صحیح کا مخالف قرآن ہونا کیونکر ممکن ہے ۔ جو شخص کسی حدیث صحیح کو قرآن کے مخالف سمجھتا ہے وہ نافہم ہے اور اپنی نافہمی سے حدیث کو مخالف قرآن قرار دیتا ہے۔ محققین اسلام و محدثین وفقہا ایسے نہیں ہیں کہ صحیح حدیث کو مخالف قرآن سمجھیں اس لئے ان کو صحیح حدیث کیلئے اس امر کی ضرورت نہیں ہے کہ موافقت یا مخالفت قرآن سے اس کا امتحان کریں یہی وجہ ہے حاشيه۔ مولوی صاحب کے اس ایمان بالقرآن پر ٹھیک وہی پنجابی مثل صادق آتی ہے سینچاں دا آکھیا سر متھے تے پر پر نالہ اساں اوتھے ای رکھناں ائے“۔ اس زبانی ایمان سے کیا فائدہ جب کہ عملدرآمد اس کے برخلاف ہے۔ سبحان اللہ ! بے شک قریب قیامت کا زمانہ ہے اور ضرور تھا