اَلْحق مباحثہ لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 53 of 598

اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 53

روحانی خزائن جلد۴ ۵۳ مباحثہ لدھیانہ رويناه انفا عنه من ذم الراى والتبرى منه ومن تقديمه النص على القياس انه لو عاش حتى ۵۱ دونت احادیث الشریعت و بعد رحيل الحفاظ في جمعها من البلاد والثغور و ظفر بها لاخذ بها و ترک کل قیاس کان قاسه وكان القياس قل في مذهبه كما قل في مذهب غيره بالنسبت اليه لكن لما كانت ادلة الشريعت مفرقة فى عصره مع التابعين و تابع التابعين في المدائن و القرى والثغور كثر القياس فى مذهبه بالنسبت الى غيره من الائمة ضرورة لعدم وجود النص في تلك المسائل التي قاس فيها بخلاف غيره من الائمة فان الحفاظ قد رحلوا في طلب الاحادیث و جمعها في عصرهم من المدائن والقرى و دونوها فجاوبت احاديث الشريعت بعضها بعضا فهذا كان سبب كثرة القياس في مذهبه وقلته في مذاهب غيره - انتھی ۔ جس کا ماحصل یہ ہے کہ کتب احادیث امام ابوحنیفہ کے بعد تالیف ہوئیں۔ امام صاحب ان احادیث کو پاتے تو ضرور قبول فرماتے ۔ اور اس سے پہلے ایک جگہ فرماتے ہیں فلو ان الامام ابا حنيفة ظـفـر بحديث من مس فرجه فليتوضا لاخذبھا ۔ واضح رہے کہ یہ حدیث بخاری میں نہیں ہے بلکہ اس سے کم مرتبہ کتب سنن میں ہے۔ اس تحقیق سے آپ کو یہ بھی معلوم ہوگا کہ اہل حدیث کا صحیحین کو بلا وقفہ نظر واجب العمل سمجھنا تقلید بے دلیل نہیں ہے بلکہ اس میں ان دلائل واصول کا اتباع ہے جو صحیح حدیث میں مرغی رکھے گئے ہیں۔ اجماع مخالفین و موافقین جس کو مخالف و موافق نقل کرتے ہیں ان احادیث کی صحت پر بڑی روشن دلیل ہے آپ اجماع کے لفظ سے گھبراتے ہیں تو اس کی جگہ تلقی و تداول امت کو جو تعامل و توارث کا ہموزن ہے قبول کریں اور یقین کے ساتھ مان لیں کہ صحیح بخاری وصحیح مسلم پر جملہ فرقہائے اہل سنت کا عمل و استدلال چلا آیا ہے اس پر جو آپ کا یہ سوال ہے کہ صحیح بخاری و صحیح مسلم مسلمانوں میں اتفاق کے ساتھ مسلم چلے آئے ہیں تو بعض علماء حنفیہ وغیر ہ نے ان احادیث کا خلاف کیوں کیا اور سبھی نے ان کے مطابق کوئی مذہب کیوں اختیار نہ کر لیا۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ خلاف فہم معانی میں اختلاف پر مبنی ہے یا بعض وجوہات ترجیح پر آپ کتب اصول و فروع اسلام میں نظر نہیں رکھتے آپ فتح القدیر کو جو حنفی مذہب کی مشہور کتاب ہے یا بر بان شرح مواہب الرحمن کو جو عرب و عجم میں بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے۔ ایک دوروز مطالعہ کر کے دیکھیں کہ ان میں کس عزت وادب کے ساتھ صحیحین کی حدیثوں سے استدلال کیا گیا ہے اور جس حدیث سے اختلاف کیا ہے اس کو ضعیف سمجھ کر اختلاف کیا ہے؟ یا اس کے معانی میں اختلاف کر کے یا اور وجوہات خارجیہ سے دوسری احادیث کو ترجیح دے کر اختلاف کیا ہے؟ آپ فرماتے ہیں کہ احادیث پر کھنے کیلئے قرآن کریم سے بڑھ کر ہمارے پاس کوئی معیار نہیں۔ محد ثین نے گو