اَلْحق مباحثہ لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 45 of 598

اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 45

روحانی خزائن جلد ۴ ۴۵ مباحثہ لدھیانہ ہوں اور سب کچھ بیان کر چکا ہوں ۔ حاجت اعادہ نہیں ہے۔ فقط میرزاغلام احمد ۲۲ / جولائی ۱۸۹۱ء پر چہ نمبر ۶ ! مولوی صاحب۔ افسوس آپ نے پھر بھی میرے اصل سوال کا جواب صاف او قطعی نہ دیا * اور نہ فرمایا کہ صحیح بخاری ومسلم کی احادیث جملہ صحیح ہیں۔ (۱) یا جملہ موضوع یا مختلط یعنی بعض ان میں صحیح ہیں بعض موضوع باوجود یکہ میرا یہ سوال آپ نے شروع تحریر میں نقل کر دیا جس سے بیگمان کہ آپ نے مطلب سوال نہ سمجھا ہور فع ہو گیا۔ ہر چند آپ نے یہ بات بتصریح کہ دی ہے کہ اگر میں کسی حدیث صحیح بخاری و صحیح مسلم کو کتاب اللہ کے حاشیه بر حاشیه مرزا صاحب کے جوابات ہمارے سوالات کے مقابلہ میں بعض رؤساء لدھیانہ نے سنے تو اس کی نظر میں ایک چشم دید حکایت بیان کی ۔اس حکایت کا اس مقام میں نقل کرنا لطف سے خالی نہیں رئیس مذکور نے بیان کیا کہ ایک رسالہ کے ایک کمان افسر ایک یورپین صاحب تھے جو رات کو دو گھنٹے دربار کیا کرتے اور اس میں اپنی فوج کے سرداروں کے معروضات اور رسالہ کے یومیہ واقعات سنتے ۔ ایک دن ایک سردار کی اونٹنی کھوئی گئی ۔ صاحب کمان افسر کو یہ حال معلوم ہوا تو انہوں نے رات کے دربار میں سردار اونٹنی کے مالک سے کہا کہ سردار صاحب اس واقعہ کے متعلق مجھے آپ صرف تین باتوں کا جواب دیں اور کچھ نہ فرما دیں یہ اس لئے کہ دیا تھا کہ صاحب بہادر کو اس بات کا علم تھا کہ سردار صاحب بڑے باتونی ہیں وہ مطلب کی بات کا جواب جلد نہ دیں گے۔ وہ تین باتیں یہ ہیں کہ اونٹی کس پڑاؤ پر کھوئی گئی اور کس وقت و تاریخ۔ سردار صاحب نے یہ تمہید شروع کی کہ حضور وہ اونٹنی میں نے ساڑھے تین سو روپیہ کوخریدی تھی مگر اس کے پانسور و پیہ مانگے جاتے تھے ۔ صاحب نے کہا کہ سردار صاحب میں نے یہ بات آپ سے نہیں پوچھی جو میں نے آپ سے پوچھا ہے اس کا جواب دیں۔ سردار صاحب نے فرمایا کہ حضور وہ اونٹنی میں نے بیکانیر کی منڈی سے خریدی تھی ۔ اس پر پھر صاحب بہادر نے فرمایا کہ سردار صاحب یہ میرے سوال کا جواب نہیں ۔ آپ میرے سوالات کا جواب دیں۔ سردار صاحب نے فرمایا کہ ہاں حضور جواب دیتا ہوں وہ اونٹنی سوکوس روز چلتی تھی اس پر صاحب نے پھر وہی عذر کیا کہ سردار صاحب آپ اور تکلیف نہ کریں صرف میرے سوالات کا جواب دیں اس پر سردار صاحب نے ان تینوں سوالوں کا جواب کوئی نہ دیا۔ اور اپنی اونٹنی کے وقائع عمری شمار کرنا شروع کیا ۔ یہاں تک کہ دربار کا وقت مقرری گذر گیا اور ان سوالات ثلثہ کا جواب نہ دیا۔ ( ابوسعید ) مولوی صاحب کی طبعزاد یا مولوی صاحب کے کسی فرضی رئیس کی اس خانہ ساز کہانی پر ہم سوائے اس کے اور کچھ کہنا نہیں چاہتے کہ دقیقہ رس ناظرین خود ہی فیصلہ کر لیں گے کہ یہ داستان کہاں تک بجا اور با موقع ہے ۔ ہمیں یقین ہے کہ مولوی صاحب کے ناحق کے افسوس سے کوئی سچی ہمدردی کرنے والا پیدا نہ ہوگا۔ ایک ناشکر گذار بے صبر کی طرح انہیں سیری بخش سامان مل رہا ہے اور وہ افسوس و شکایت کئے جار ہے ہیں ۔ معلوم نہیں ایسا کفور مبین بننے سے آپ کیا اپنے تئیں ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ مولوی صاحب ایسے صاف اور مسکت جواب آپ کومل رہے ہیں کہ ان کی قوت وسطوت نے آپ کو مختل الحواس بنا دیا ہے ورنہ آپ خود ہی اس جملہ پر جو