اَلْحق مباحثہ لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 44 of 598

اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 44

۴۴ روحانی خزائن جلد ۴ مباحثہ لدھیانہ (۴۲) وجہ سے آپ مجھ کو مفتری قرار دیتے ہیں۔ آپ کو ڈرنا چاہئے۔ انسان جو بے وجہ تہمت اپنے بھائی کی نسبت تجویز کرتا ہے وہ خدا تعالیٰ کی جناب میں اس لائق ہو جاتا ہے کہ کوئی دوسرا وہی تہمت اس پر کرے۔ خدا تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ مجھ کو پختہ طور پر اس بات پر یقین ہے کہ اگر لَمْ يَزَل کا لفظ حدیث میں صحیح اور مطابق واقعہ ہے تو اس کا مصداق مجر دنگرانی حالات ہرگز نہیں ٹھہر سکتا مثلا اگر کوئی شخص کہے کہ میں زید کو دس برس سے برابر دیکھتا ہوں کہ وہ دہلی جانے کا ہمیشہ ارادہ رکھتا ہے تو کیا اس سے یہ سمجھا جائے گا کہ زید نے بھی زبان سے اس مدت دس برس میں دہلی جانے کا ارادہ ظاہر نہیں کیا اور بفرض محال اگر یہ اجمالی امر ہے تو جیسا اجمال اس بات کا ہے کہ زبان سے کچھ نہ کہا ہو یہ احتمال بھی تو ہے کہ زبان سے کہا ہولیکن لم یزل کا لفظ احتمال کے امر کو دور کرتا ہے ایک مدت تک کسی امر کی نسبت وہ حالت بنائے رکھنا جس کا ادا کر نا زبان کا کام ہے صریح اس بات پر دلیل ہے کہ اتنی لمبی مدت میں کبھی تو زبان سے بھی کام لیا ہوگا۔ پھر آپ فرماتے ہیں کہ تمہارا یہ کہنا آپ ابن عربی کے مخالف تھے تو کیوں ناحق اس کا ذکر کیا۔ باطل ہے۔ کیونکہ میرے کلام کے صریح منطوق سے مختلف ہے۔ میں کہتا ہوں کہ آپ کے کلام کا آپ کے ابتدائی بیان میں یہ صریح منطوق بھی پایا جاتا ہے کہ آپ ابن عربی کے مؤید ہیں؟ اگر آپ مؤید ہیں تو آپ نے صحیح بخاری کی حدیث کیوں نقل کی ہے؟ جس میں لکھا ہے کہ محدث بھی نبی کی طرح مرسل ہے اور آپ نے کیوں محمد اسماعیل صاحب کا یہ قول نقل کیا ہے کہ محدث کی وجی نبی کی طرح دخل شیطانی سے منزہ کی جاتی ہے۔ اگر آپ بخاری کی حدیث کو نہیں مانتے تو گزشتہ را صلواۃ ابھی اقرار کر دیں کہ میں محدث کی وحی کو دخل شیطانی سے منزہ ہونے والی نہیں سمجھتا! تعجب کہ ایک طرف تو آپ بخاری بخاری کرتے ہیں اور ایک طرف اس کے بر خلاف چلتے ہیں! پھر جب کہ آپ کا بخاری پر ایمان ہے کہ اس کی سب حدیثیں صحیح ہیں تو اس صورت میں تو آپ کو ابن عربی سے اتفاق کرنا پڑے گا کیونکہ اگر کسی محدث پر یہ کھل جائے کہ فلاں حدیث موضوع ہے اور وہ بار بار کی وحی سے اس پر قائم کیا جائے تو کیا اب حسب منشاء بخاری یہ اعتقاد نہیں کریں گے کہ محدث کو وہ حدیث موضوع مان لینی چاہیے۔ پھر جب کہ آپ کا یہ اعتقاد ہے تو میں نے آپ پر کیا افترا کیا ؟ حضرت مولوی صاحب آپ ایسے الفاظ کو کیوں استعمال کرتے ہیں۔ اتقوا اللہ کے مضمون کو کیوں اپنے دل میں قائم نہیں کرتے ۔ مفتری ملعون اور دین سے خارج ہوتے ہیں۔ اجتہادی طور کی بات کو کسی بیچ سے گو غلط ہی سہی سمجھ لینا اور چیز ہے اور عمداً ایک واقعہ معلومة الحقیقت کے برخلاف کہنا یہ اور امر ہے۔ (۱) آپ کے خلاصہ سوال کی نسبت میرا یہی بیان ہے کہ میں اس طرح سے کہ جیسے حنفی لوگ امام اعظم صاحب پر محض تقلید کے طور پر ایمان رکھتے ہیں بخاری اور مسلم پر ایمان نہیں رکھتا۔ ان کی صحت کوشن کے طور پر مانتا ہوں اور الغیب عند اللہ کہتا ہوں۔ مجھے ان کے بارے میں رویت کی مانند علم نہیں ہے۔ اگر کسی حدیث کو مخالف کتاب اللہ پاؤں گا تو بغیر تطبیق اور فیصلہ کے ہرگز اس کو قول رسول کریم نہیں سمجھوں گا ۔ گو حدیث صحیح میرا مذہب ہے اور قرآن کے معیار ٹھہرانے میں پہلے عرض کر آیا