اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 43
روحانی خزائن جلد ۴ ۴۳ مباحثہ لدھیانہ سول کریم یقین نہیں کروں گا۔ جس کا کوئی جھکو مدل طور پر جان نہ دیے کہ در حقیقت کوئی مخالفت نہیں (۳ ) ہاں سلسلہ تعامل کی حدیثیں اس سے مستثنیٰ ہیں۔ پھر آپ فرماتے ہیں کہ ” قرآن کریم کو حدیث کا معیار صحت ٹھہرانے میں کوئی علماء سلف میں سے تمہارے ساتھ ہے۔ سو حضرت میں تو حوالہ دے چکا اب مانا نہ ماننا آپ کے اختیار میں ہے۔ پھر آپ مجھ سے اجماع کی تعریف پوچھتے ہیں میں آپ پر ظاہر کر چکا ہوں کہ میرے نزدیک اجماع کا لفظ اس حالت پر صادق آ سکتا ہے کہ جب صحابہ میں سے مشاہیر صحابہ ایک اپنی رائے کو شائع کریں اور دوسرے باوجود سننے اس رائے کے مخالفت ظاہر نہ فرماویں تو یہی اجماع ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ اسی صحابی نے جو امیر المومنین تھے ابن صیاد کے دجال معبود ہونے کی نسبت قسم کھا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روبرو اپنی رائے ظاہر کی اور آنحضرت نے اس سے انکار نہیں کیا اور نہ کسی صحابی نے اور پھر اسی امر کے بارے میں ابن عمر نے بھی قسم کھائی اور جابر نے بھی اور کئی صحابیوں نے یہی رائے ظاہر کی تو ظاہر ہے کہ یہ امر باقی صحابہ سے پوشیدہ نہیں رہا ہو گا۔ سو میرے نزدیک یہی اجماع ہے۔ اور کون سی اجماع کی تعریف مجھ سے آپ دریافت کرنا چاہتے ہیں؟ اگر آپ کے نزدیک یہ اجماع نہیں تو آپ جس قدرا بن صیاد کے دجال معہود ہونے پر صحابہ نے قسمیں کھا کر اس کا دجال معہود ہونا بیان کیا ہے یا بغیر قسم کے اس بارے میں شہادت دی ہے دونوں قسم کی شہادتیں بالمقابل پیش کریں اور اگر آپ پیش نہ کر سکیں تو آپ پر حجت من کل الوجوہ ثابت ہے کہ ضرور اجتماع ہو گیا ہوگا کیونکہ اگر انکار پر قسمیں کھائی جاتیں تو ضرور وہ بھی نقل کی جاتیں آنحضرت صلعم کا قسم کوسن کر چپ رہنا ہزار اجماع سے افضل ہے اور تمام صحابہ کی شہادت سے کامل تر شہادت ہے پھر اگر یہ چھیڑ چھاڑ فضول نہیں تو اور کیا ہے! پھر آپ فرماتے ہیں کہ ابن صیاد کے دجال ہونے پر کب آنحضرت صلعم نے اپنی زبان سے اپنا ڈرنا ظاہر فرمایا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ تمام باتیں تصریح سے ہی ثابت نہیں ہوتیں اشارہ سے بھی ثابت ہو جاتی ہیں جس حالت میں صحابی کا یہ قول ہے کہ جس وقت تک آنحضرت صلعم بعد دیکھنے ابن صیاد کے زندہ رہے اس بات سے ڈرتے رہے کہ وہی دجال معہود ہوگا جیسے لَمْ يَزَل کے لفظ سے ظاہر ہے اس صورت میں کوئی دانا خیال کر سکتا ہے کہ اس طول طویل مدت کا ڈر ایک احتمالی بات تھی ؟ اور اس لمبی مدت میں کبھی آنحضرت نے اپنے منہ سے نہیں فرمایا تھا۔ جس حالت میں آنحضرت آپ ہی فرماتے ہیں کہ ہر ایک نبی دجال سے ڈراتا رہا ہے اور میں بھی ڈراتا ہوں تو اس صورت میں کیو نکر سمجھ آ سکتی ہے کہ جو ڈر آنحضرت کے دل میں مخفی تھا وہ کسی ایسی مدت میں کسی صحابی پر ظاہر نہیں کیا۔ ماسوا اس کے جب ایک ادنی قال سے ایک شخص ایک بات بیان کر کے اس کا قائل ٹھہرتا ہے ایسا ہی اپنے اشارات اور ایماء ات اور حالات سے اس کو ادا کر کے اس کا قائل قرار پاتا ہے سو یہ کونسی بڑی بات ہے جس کی