اَلْحق مباحثہ لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 41 of 598

اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 41

روحانی خزائن جلد ۴ ۴۱ مباحثہ لدھیانہ صرف ظن یا شک کے درجہ پر ہیں اور فن حدیث کی تحقیقا تیں ان کو ثبوت کامل کے درجہ تک نہیں پہنچا ۳۹ ) سکتیں اس صورت میں اگر ہم اس محک مقدس سے ان کی تصحیح کیلئے مدد نہ لیں تو گویا ہم ہر گز نہیں چاہتے کہ وہ حدیثیں صحت کاملہ کے درجہ تک پہنچ سکیں۔ میں متعجب ہوں کہ آپ اس بات کے ماننے سے کیوں اور کس وجہ سے رکھتے ہیں کہ قرآن کریم کو ایسی احادیث کیلئے محک و معیار ٹھہرایا جاوے؟ کیا آپ قرآن کریم کی ان خوبیوں کے بارے میں کہ وہ محک اور معیار اور میزان ہے کچھ شک میں ہیں؟ آپ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ بخاری اور مسلم کے بیج ہونے پر اجماع ہو چکا ہے! اب ان کو بہر حال آنکھیں بند کر کے صحیح مان لینا چاہئے الیکن میں سمجھ نہیں سکتا کہ یہ اجماع کن لوگوں نے کیا ہے اور کس وجہ سے واجب العمل ہو گیا ہے؟ دنیا میں حنفی لوگ پندرہ کروڑ کے قریب ہیں وہ اس اجماع سے منکر ہیں ۔ ماسوا اس کے آپ صاحبان ہی فرمایا کرتے ہیں کہ حدیث کو بشرط صحت ماننا چاہئے اور قرآن کریم پر بغیر کسی شرط کے ایمان لانا فرض ہے ۔ اب اگر چہ اس بات پر تو ہمارا ایمان ہے کہ جو حدیث صحیح ثابت ہو جائے وہ واجب العمل ہے۔ لیکن اس بات پر ہم کیونکر ایمان لے آویں کہ ہر یک حدیث بخاری اور مسلم کی بغیر کسی شک اور شبہ کے واجب العمل ماننی چاہئے ۔ یہ و جوب کس سند شرعی یا نص صریح سے ہوا کرتا ہے۔ کچھ بیان تو کیا ہوتا۔ تفسیر فتح العزیز میں زیر آیت فَلَا تَجْعَلُوا لِلَّهِ أَنْدَادًا وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ لے کے لکھا ہے کہ ”چنانچہ عبادت غیر خدا مطلقاً شرک و کفر است اطاعت غیر او تعالی نیز بالاستقلال کفر است و معنے اطاعت غیر بالاستقلال آنست که ربقه تقلید او در گردن اند از دو تقلید اولازم شمارد با وجود ظہور مخالفت حکم او بحکم او تعالی ۔“ اور مولوی عبداللہ صاحب غزنوی مرحوم بھی اپنے ایک خط میں جو آپ ہی کے نام ہے جو لا ہور کی گول سڑک کے باغ میں آپ نے مجھے دیا تھا قرآن کریم کی نسبت چند شرطیں اس امر کی تائید میں لکھتے ہیں اور وہ یہ ہیں کہ فقیر را از ابتداء حال میلان بکلام رب عزیز بود و دعا میکردم کہ یا الہ العالمین دروازہ ہائے کلام خود بریں عاجز بازکن سالها شد و مصیبت بسیار شد تا بحدے کہ ہر جا کہ مے رفتم بلوا می شد و دل تنگ شد ناگاہ القاشد قَدْ نَرى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضُهَا " بعد ازاں رو بقرآن شد و آیا تے کہ در باب توجه بقرآن بود القا می شد مانند اتَّبِعُوا مَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَّبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوا مِنْ دُونِةٍ اَوْلِيَاء = و امثال آن تا بعد یکه یک روز دیدم که قرآن مجید پیش رویم نهاده شد والقاشد هذا كِتَابِي وَهَذَا عِبَادِى فَاقْرَءُ وُا كِتَابِی عَلَی عِبَادِی ۔ پس یہ آیت جو کہ مولوی صاحب اپنے القاء کے رو سے ذکر فرماتے ہیں کہ اِتَّبِعُوا مَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ کیسے فیصلہ البقرة : ۲۲۳ البقرة : ۱۴۵ ۳ الاعراف: ۴