اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 36
۳۶ مباحثہ لدھیانہ روحانی خزائن جلد۴ ۳۴ وہ حسب استفاضہ اور بقدر اپنی فیضیابی کے یقین کے درجہ تک پہنچ گئی ہیں لیکن باقی حدیثیں ظن کے مرتبہ سے زیادہ نہیں۔ غایت کار بعض حدیثیں نظن غالب کے مرتبہ تک ہیں۔ اس لئے میرا مذ ہب بخاری اور مسلم وغیرہ کتب حدیث کی نسبت یہی ہے جو میں نے بیان کر دیا ہے یعنی مراتب صحت میں یہ تمام حدیثیں یکساں نہیں ہیں۔ بعض بوجہ تعلق سلسلہ تعامل یقین کی حد تک پہنچ گئی ہیں۔ اور بعض باعث محروم رہنے کے اس تعلق سے ظن کی حالت میں ہیں۔ لیکن اس حالت میں میں حدیث کو جب تک قرآن کے صریح مخالف نہ ہو موضوع قرار نہیں دے سکتا۔ اور میں سچے دل سے اس بات کی شہادت دیتا ہوں کہ حدیثوں کے پر کھنے کیلئے قرآن کریم سے بڑھ کر اور کوئی معیار ہمارے پاس نہیں۔ ہر چند محدثین نے اپنے طریق پر روات کی حالت کو صحت یا غیر صحت حدیث کیلئے معیار مقرر کیا ہے۔ لیکن کبھی انہوں نے دعوی نہیں کیا کہ یہ معیار کامل اور قرآن کریم سے مستغنی کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔ يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إن جَاءَكُمْ فَاسِقُ بِنَبَا فَتَبَيَّنُوا یعنی اگر کوئی فاسق کوئی خبر لا دے تو اس کی اچھی طرح تفتیش کر لینی چاہئے ۔ اور ظاہر ہے کہ بوجہ اس کے کہ بجز نبی کے اور کوئی معصوم نظیر نہیں سکتا اور امکانی طور پر صدور کذب و غیره ذنوب کا ہر ایک سے بجز نبی کے ممکن الوقوع ہے۔ لہذا روات کے حالات صدق و کذب ودیانت و خیانت کے پر لکھنے کیلئے بڑی کامل تحقیقات در کارتھی تا ان حدیثوں کو مرتبہ یقین کامل تک پہنچاتی لیکن وہ تحقیقات میسر نہیں آ سکی۔ کیونکہ اگر چہ صحابہ کے حالات روشن تھے۔ اور ان لوگوں کے حالات بھی جنہوں نے ائمہ حدیث تک حدیثوں کو پہنچایا لیکن درمیانی لوگ جن کو نہ صحابہ نے دیکھا تھا اور نہ ائمہ حدیث ان کے اصلی حالات سے پورے اور یقینی طور پر واقف تھے ان کے صادق یا کاذب ہونے کے حالات یقینی اور قطعی طور پر کیوں کر معلوم ہو سکتے تھے؟ سو ہر یک منصف اور ایماندار کو یہی مذہب اور عقیدہ رکھنا پڑتا ہے کہ بجز ان حدیثوں کے جو آفتاب سلسلہ تعامل سے منور ہوتی چلی آئی ہیں۔ باقی تمام حدیثیں کسی قدر تاریکی سے پُر ہیں اور ان کی اصلی حالت بیان کرنے کے وقت ایک متقی کی یہ شان نہیں ہونی چاہئے کہ چشم دید یا قطعی الثبوت چیزوں کی طرح ان کی نسبت صحت کا دعوی کرے بلکہ گمان صحت رکھ کر واللہ اعلم کہ دیوے اور جو شخص ان حدیثوں کی نسبت واللہ اعلم بالصواب نہیں کہتا اور احاطہ نام کا دعوی کرتا ہے وہ بلا شبہ جھوٹا ہے خدا وند کریم ہر گز پسند نہیں کرتا کہ انسان علم نام سے پہلے علم تام کا دعویٰ کرے۔ اسی قدر دعوی کرنا چاہئے جس قدر علم حاصل ہو پھر زیادہ اس سے اگر کوئی سوال کرے تو واللہ اعلم بالصواب کہہ دیا جائے۔ سو میں آپ کی خدمت میں کھول کر گزارش کرتا ہوں کہ میں حصہ دوم حدیثوں کی نسبت خواہ وہ حدیثیں بخاری کی ہیں یا مسلم کی ہیں ہرگز نہیں کہہ سکتا کہ وہ الحجرات :