اَلْحق مباحثہ لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 35 of 598

اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 35

۳۳ روحانی خزائن جلد ۴ بسم الله الرحمن الرحیم ۳۵ مرزا صاحب مباحثہ لدھیانہ نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم حضرت مولوی صاحب۔ آپ پھر سہ کر رشکوہ کے طور پر تحریر فرماتے ہیں کہ میرے سوال کا اب بھی جواب صاف الفاظ میں نہیں دیا اور آپ فرماتے ہیں کہ صاف الفاظ میں کہنا چاہئے کہ صحیحین کی جملہ احادیث بلا وقفه و نظر واجب التسلیم اور صحیح نہیں بلکہ ان میں موضوع یا غیر صحیح احادیث موجود ہیں یا ان کے موجود ہونے کا احتمال ہے اور آپ اس بات کا جواب مجھ سے مانگتے ہیں کہ مسیحین کی حدیثیں سب کی سب صحیح ہیں یا موضوع ہیں یا مختلط ہیں۔ فقط اما الجواب پس واضح ہو کہ احادیث کے دو حصہ ہیں ایک وہ حصہ جو سلسلہ تعامل کی پناہ میں کامل طور پر آ گیا ہے۔ یعنی وہ حدیثیں جن کو تعامل کے محکم اور قومی اور لاریب سلسلہ نے قوت دی ہے اور مرتبہ یقین تک پہنچا دیا ہے۔ جس میں تمام ضروریات دین اور عبادات اور عقود اور معاملات اور احکام شرع متین داخل ہیں ۔ سوایسی حدیثیں تو بلا شبہ یقین اور کامل ثبوت کی حد تک پہنچ گئے ہیں اور جو کچھ ان حدیثوں کو قوت حاصل ہے وہ قوت فن حدیث کے ذریعہ سے حاصل نہیں ہوئی اور نہ وہ احادیث منقولہ کی ذاتی قوت ہے اور نہ وہ راویوں کے وثاقت اور اعتبار کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے بلکہ وہ قوت ہبرکت وطفیل سلسلہ تعامل پیدا ہوئی ہے۔ سو میں ایسی حدیثوں کو جہاں تک ان کو سلسلۂ تعامل سے قوت ملی ہے ایک مرتبہ یقین تک تسلیم کرتا ہوں لیکن دوسرا حصہ حدیثوں کا جن کو سلسلۂ تعامل سے کچھ تعلق اور رشتہ نہیں ہے اور صرف راویوں کے سہارے سے اور ان کی راست گوئی کے اعتبار پر قبول کی گئی ہیں ان کو میں مرتب ظن سے بڑھ کر خیال نہیں کرتا اور غایت کار مفید ظن ہوسکتی ہیں کیونکہ جس طریق سے وہ حاصل کی گئی ہیں۔ وہ یقینی اور قطعی الثبوت طریق نہیں ہے بلکہ بہت سی آویزش کی جگہ ہے۔ وجہ یہ کہ ان حدیثوں کا فی الواقع صحیح اور راست ہونا تمام راویوں کی صداقت اور نیک چلنی اور سلامت فہم اور سلامت حافظہ اور تقوی وطہارت وغیرہ شرائط پر موقوف ہے۔ اور ان تمام امور کا کما حقہ اطمینان کے موافق فیصلہ ہونا اور کامل درجہ کے ثبوت پر جو حکم رویت کا رکھتا ہے پہنچنا حکم محال کا رکھتا ہے اور کسی کو طاقت نہیں کہ ایسی حدیثوں کی نسبت ایسا ثبوت کامل پیش کر سکے۔ کیا آپ ایسی کسی حدیث کی نسبت حلفاً بیان کر سکتے ہیں کہ اس کے مضمون کی صحت کی نسبت کامل اطمینان اور سکینت مجھ کو حاصل ہے؟ اگر آپ حلف اُٹھانے پر مستعد بھی ہوں تا ہم میں خیال کروں گا کہ آپ ایک پرانے خیال اور عادت سے متاثر ہوکر ایسی جرات کرنے پر آمادہ ہو گئے ہیں ورنہ آپ کو بصیرت کی راہ سے ہر گز قدرت نہیں ہوگی کہ کسی ایسی حدیث کے لفظ لفظ کی صحت قطعی اور یقینی کی نسبت دلائل شافیہ جو غیر قوم کے لوگ بھی سمجھ سکیں پیش کر سکیں ۔ سو چونکہ واقعی صورت یہی ہے کہ جس قدر حدیثیں تعامل کے سلسلہ سے فیض یاب ہیں۔