اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 29
روحانی خزائن جلد ۴ ۲۹ مباحثہ لدھیانہ انسان جس کسی کا قول یا مذ ہب اپنے ریویو میں بطور نقل کے ذکر کرتا ہے وہ یا اپنے مؤیدات دعوئی اور ۲۷ رائے کی مدد میں لاتا ہے یا اس کی رد کی غرض سے۔ لیکن صاف ظاہر ہے کہ آپ اس قول کو اپنے مؤیدات دعوی کے ضمن میں لائے ہیں۔ آپ نے بجز اس کے اسی دعوی کی تائید کیلئے ایک بخاری کی حدیث بھی لکھی ہے کہ محدث کا الہام دخل شیطانی سے محفوظ کیا جاتا ہے بلکہ وہاں تو آپ نے کھلے طور ظاہر کر دیا ہے کہ آپ اسی قول کے حامی ہیں گو ایمانی طور پر نہیں مگر امکانی طور پر ضرور حامی ہیں اور میرے لئے صرف اسی قدر کافی ہے کیونکہ میرا مطلب تو صرف اس قدر ہے کہ حدیثیں اگر چہ صحیح بھی ہوں لیکن ان کی صحت کا مرتب نظن یا ظن غالب سے زیادہ نہیں۔ سو ان حدیثوں کی حقیقی صحت کا پر کھنے والا قرآن شریف ہے۔ اور قرآن شریف جس قدر اپنے محامد اور اپنے کمالات بیان کرتا ہے ان پر نظر غور ڈالنے سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس نے اپنے تئیں اپنے ماسوا کی تصحیح کیلئے محک ٹھہرایا ہے اور اپنی ہدایتوں کو کامل اور اعلیٰ درجہ کی ہدایتیں بیان فرماتا ہے۔ جیسا کہ وہ اپنی شان میں فرماتا ہے۔ فِيهَا كُتُبُ قَيْمَةٌ فَضَلْنَهُ عَلَى عِلْمٍ ، يَهْدِى بِهِ اللَّهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهُ سُبُلَ السَّلْمِ وَيُخْرِجُهُمْ مِنَ الظُّلُمتِ إِلَى النُّوْرِ وَيُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُونُوا تَعْلَمُونَ قُلْ إِنَّ هُدَى اللهِ هُوَ الْهُدى فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَايَ فَلَا يَضِلُّ وَلَا يشفى ، لَا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ فَمَن يَكْفَرُ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِنَ بِاللهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى لَا انْفِصَامَ لَهَا إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ إِنَّ فِي هَذَا لَبَلَغَا لِقَوْمٍ عَبِدِينَ وَإِنَّهُ لَحَقُّ الْيَقِينِ حِكْمَةٌ بَالِغَةٌ تِبْيَانًا لِكُلِّ شَيْءٍ لَا رُوحَا مِنْ أَمْرِنَا لا نُورٌ عَلَى نُورِها أَنْزَلَ الْكِتَبَ بِالْحَقِّ وَالْمِيزَانَ هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيَّنَتٍ مِّنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ إِنَّهُ لَقُرْآن كَرِيمُ في كتب مكتونِ فَضَّلْنَهُ عَلَى عِلْمٍ إِنَّهُ لَقَوْلُ فَضَلَّ " لَا رَيْبَ فِيْهِ وَمَا أَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَبَ إِلَّا لِتُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِي اخْتَلَفُوْا فِيْهِ وَهُدًى وَرَحْمَةً لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ " قُل نَزَّلَهُ رُوحُ القَدَسِ مِن رَّبِّكَ بِالْحَقِّ لِيُبْتَ الَّذِينَ آمَنُوا وَهُدًى وَبُشْرى لِلْمُسْلِمِينَ هَذَا بَيَانَ لِلنَّاسِ وَهُدًى وَ مَوْعِظَةٌ لِلْمُتَّقِينَ " بِالْحَقِّ أَنْزَلْنَهُ وَ بِالْحَقِّ نَزَلَ ۲۵ قُلْ هُوَ لِلَّذِيْنَ آمَنُوْا هُدًى وَشِفَاءٍ " مَا كَانَ حَدِيثَا يَفْتَرى ۲۷ اب ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ نے ان آیات میں کئی قسم کی خصوصیتیں اور حقیقتیں قرآن کریم کی بیان فرمائی ہیں۔ از انجملہ ایک یہ کہ وہ البيئة: ۲۴ الاعراف :۳۵۳ المائدة : ۱۷ ٢ البقرة : ۱۵۲ ۵ البقرة : ۱۲۱: ۲ طه : ١٢٤ كى حم السجدة: ۴۳ ۸ البقرة: ۲۵۷ بنی اسرائیل : ١٠: ١٠ الانبياء : ۱۰۷ ۱۱ الحاقة: ۱۳۵۲- القمر : ٦: ١٣ النحل : ١٤٢٩٠ الشورى ۵۳ ۱۵ النور : ٣٦ ١٦ الشورى: ۱۸ كل البقرة : ۱۸۶ ۱۸ الواقعة: ۷۸ ۱۹۷۹ الاعراف: ۲۰:۵۳ الطارق ۲۱۱۴ البقرة :٢٢٣ النحل: ۲۳۶۵ النحل : ۱۰۳ ال عمران: ۱۳۹ ۲۵ بنی اسرائیل: ١٠٦ ٢٦ حم السجدة: ۴۵ ۲۷ یوسف : ۱۱۲