اَلْحق مباحثہ لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 28 of 598

اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 28

روحانی خزائن جلد ۴ ۲۸ مباحثہ لدھیانہ (۲۶) ابن صیاد کے دجال معہود ہونے پر صحابہ کا کہاں اجماع تھا۔ اس کے جواب میں عرض کرتا ہوں کہ یہ اجماع مسلم کی حدیث سے جوابی سعید الخدری سے بیان کی ہے ثابت ہوتا ہے۔ کیونکہ اس حدیث میں ابن صیاد کہتا ہے کہ لوگ کیوں مجھے دجال معہود کہتے ہیں۔ اب ظاہر ہے کہ اس وقت کہنے والے صرف صحابہ تھے اور کون لوگ تھے؟ جو اس کو دجال کہتے تھے۔ یہ حدیث صاف بتلا رہی ہے کہ صحابہ کا اس بات پر اجماع تھا کہ ابن صیاد ہی دجال معہود ہے۔ صحابہ کی کوئی ایسی بڑی جماعت نہ تھی جن کے اجماع کا حال معلوم ہونا محالات میں سے ہوتا بلکہ ان کا اجماع بباعث وحدت مجموعی ان کی کے بہت جلد معلوم ہو جاتا تھا۔ پھر تین صحابیوں کا قسم کھانا کہ حقیقت میں ابن صیاد ہی دجال معہود ہے صاف اجماع پر دلالت کرتا ہے کیونکہ ان کے مخالف منقول نہیں ! پھر بعد اس کے آپ دریافت فرماتے ہیں کہ اجماع کی حقیقت کیا ہے۔ میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس سوال سے آپ کا مطلب کیا ہے؟ ایک جماعت کا ایک بات کو بالاتفاق مان لینا یہی اجماع کی حقیقت ہے جو صحابہ میں بآسانی محقق ہو سکتی تھی اگر چہ دوسروں میں نہیں۔ اور یہ جو آپ نے دریافت فرمایا ہے کہ کہاں یہ حدیث ہے کہ آنحضرت مسلم ابن صیاد کے دجال ہونے پر ڈرتے تھے ۔ سو واضح ہو کہ وہ حدیث مشکوۃ میں بحوالہ شرح السنہ موجود ہے اور اصل عبارت حدیث کی یہ ہے۔ فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صلعم مُشْفِقًا أَنَّهُ هُوَ الدَّجَّالُ۔ اور آپ نے جو دریافت فرمایا تھا کہ بعض اکابر کا قول اشاعۃ السنہ میں کہاں ہے جس میں یہ لکھا ہو کہ بعض موضوع حدیثیں کشف کے ذریعہ سے صحیح ہو سکتی ہیں اور صحیح موضوع مظہر سکتی ہیں سودہ قول ریویو براہین احمدیہ کے صفحہ ۳۴۰ میں موجود ہے جس میں آپ نے بتائید اپنے خیال کے شیخ ابن عربی صاحب کا یہ قول نقل فرمایا ہے کہ ہم اس طریق سے آنحضرت صلعم سے احادیث کی تصحیح کرا لیتے ہیں۔ بہتیری حدیثیں ایسی ہیں جو اس فن کے لوگوں کے نزدیک صحیح ہیں اور وہ ہمارے نزدیک صحیح نہیں اور بہتیری حدیثیں ان کے نزدیک موضوع ہیں اور آنحضرت صلعم کے قول سے بذریعہ کشف صحیح ہو جاتی ہیں۔ اب اگر چہ میں اس بات پر زور نہیں دیتا کہ ایمانی طور پر آں مکرم کا یعنی آپ کا یہی عقیدہ ہے لیکن میں آپ کے فوائے بیان سے سمجھتا ہوں بلکہ ہر یک تدبر کرنے والا سمجھ سکتا ہے کہ امکانی طور پر ضرور آپ کا یہی عقیدہ ہے کیونکہ اگر یہ امر بکلی آپ کے عقیدہ سے باہر تھا تو پھر اس کا ذکر کرنا بطور لغو ہوتا ہے جو آپ کی شان سے بعید ہے۔