اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 27
روحانی خزائن جلد ۴ ۲۷ مباحثہ لدھیانہ اور آپ نے یہ جو مجھ سے دریافت فرمایا ہے کہ جو تعارض ابن صیاد والی حدیث اور گر جا ۲۵ والے دجال والی حدیث میں پایا جاتا ہے اس تعارض کے ماننے میں کون تمہارے ساتھ ہے۔“ اس سوال سے میں متعجب ہوں کہ جس حالت میں مدلل اور موجہ طور پر میں تعارض کو ثابت کر چکا ہوں۔ تو پھر میرے لئے ضرورت کیا ہے کہ میں اپنے لئے اس بصیرت خداداد میں کسی کی سلف میں سے تقلید ضروری سمجھوں اور آپ بھی تو ریویو براہین احمدیہ کے صفحہ ۳۱۰ میں اس بات کو قبول کر چکے ہیں کہ بلا تقلید غیرے استدلال منع نہیں۔ چنانچہ آپ اس صفحہ میں فرماتے ہیں کہ ہمارے معاصرین جو با وجود ترک تقلید تقلید کے خوگر ہیں بلا واسطہ سابقین کسی آیت یا حدیث سے تمسک نہیں کرتے اور جو بلا واسطه سابقین کسی آیت یا حدیث سے استدلال کریں اس کو تعجب کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔“ اور آپ کا یہ فرمانا کہ " میرے کسی لفظ سے یہ سمجھ لیا ہے کہ میں احادیث کا مرتبہ صحت قرآن کے مرتبہ صحت سے برابر سمجھتا ہوں۔" یہ مجھے آپ کے فوائے کلام سے خیال گزرا تھا اگر آپ کا یہ منشاء نہیں ہے اور آپ میری طرح احادیث کا مرتبہ صحت قرآن کریم کے مرتبہ صحت سے متنزل سمجھتے ہیں اور قرآن کریم کو امام قرار دیتے ہیں اور محک صحت احادیث ٹھہراتے ہیں تو پھر میری غلطی ہے کہ میں نے ایسا خیال کیا لیکن اگر آپ در حقیقت قرآن کریم کا اعلیٰ مرتبہ مانتے ہیں اور اس کو واقعی طور پر محک صحت احادیث قرار دیتے ہیں اور اس کی مخالفت کی حالت میں کسی حدیث کو قبول نہیں کرتے تو پھر تو آپ مجھ سے متفق الرائے ہیں ۔ پھر اس لمبے چوڑے تکرار سے فائدہ کیا ہے ! اور یہ جو آپ نے مجھ سے دریافت فرمایا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اجتہاد سے کیا مطلب ہے ۔ تو میں عرض کرتا ہوں کہ اس جگہ اجتہاد سے مراد اس عاجز کی اجتہادفی الوحی ہے کیونکہ یہ تو ثابت ہے اور آپ کو معلوم ہوگا کہ آنحضرت صلعم وحی مجمل میں اجتہادی طور پر دخل دے دیا کرتے تھے اور بسا اوقات وہ تفسیر اور تشریح جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے صحیح اور سچی ہوتی تھی اور بعض اوقات غلطی بھی ہو جاتی تھی چنانچہ اس کی نظیریں بخاری اور مسلم میں بہت ہیں اور حدیث فذهب وھلی بھی اس کی شاہد ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک جماعت کثیر کے ساتھ مدینہ سے مکہ معظمہ کی طرف بعزم طواف کعبہ سفر کرنا یہ بھی ایک اجتہادی غلطی تھی۔ زیادہ لکھنے کی حاجت نہیں۔ پھر آپ مجھ سے دریافت فرماتے ہیں کہ