اَلْحق مباحثہ لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 15 of 598

اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 15

روحانی خزائن جلد ۴ ۱۵ مباحثہ لدھیانہ ہیں اور تمام الفاظ وحی الہی سے ہیں تو اس قسم کے کھانے میں وہ جھوٹا ہوگا۔ اور خودحدیثوں کا تعارض (۱۳) جو ان میں واقع ہے صاف دلالت کر رہا ہے کہ وہ مقامات تحریف سے خالی نہیں ہیں پھر کیونکر کوئی مومن یہ اعتقاد رکھ سکتا ہے کہ حدیثیں روایتی ثبوت کے رو سے قرآن کریم کے ثبوت سے برابر ہیں! کیا آپ یا کوئی اور مولوی صاحب ایسی رائے ظاہر کر سکتے ہیں کہ ثبوت کے رو سے جس مرتبہ پر قرآن کریم ہے اسی قرینہ پر حدیثیں بھی ہیں؟ پھر جب کہ آپ خود مانتے ہیں کہ حدیثیں اپنے روایتی ثبوت کی رو سے اعلیٰ مرتبہ ثبوت سے گری ہوئی ہیں اور غایت کار مفید ظن ہیں تو آپ اس بات پر کیوں زور دیتے ہیں کہ اسی مرتبہ یقین پر انہیں مان لینا چاہئے جس مرتبہ پر قرآن کریم مانا جاتا ہے۔ پس صحیح اور سچا طریق تو یہی ہے کہ جیسے حدیثیں صرف ظن کے مرتبہ تک ہیں بجز چند حدیثوں کے۔ تو اسی طرح ہمیں ان کی نسبت ظن کی حد تک ہی ایمان رکھنا چاہئے اور ہر ایک مومن خود سمجھ سکتا ہے کہ حدیثوں کی تحقیقات روایت کے نقص سے خالی نہیں کیونکہ ان کے درمیانی راویوں کے چال چلن وغیرہ کی نسبت ایسی تحقیقات کامل نہیں ہو سکی اور نہ ممکن تھی کہ کسی طرح شک باقی نہ رہتا۔ آپ خود اپنے رسالہ اشاعۃ السنہ میں لکھ چکے ہیں کہ احادیث کی نسبت بعض اکابر کا یہ مذہب ہوا ہے۔ کہ ایک ملہم مشخص ایک صحیح حدیث کو بالہام الہی موضوع ٹھہر سکتا ہے اور ایک موضوع حدیث کو بالہام الہی صحیح ٹھہرا سکتا ہے۔ اب میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ جب کہ یہ حال ہے کہ کوئی حدیث بخاری یا مسلم کی بذریعہ کشف کے موضوع ٹھہر سکتی ہے تو پھر کیونکر ہم ایسی حدیثوں کو ہم پایہ قرآن کریم مان لیں گے؟ ہاں یہ تو ہمارا ایمان ہے کہ نلنی طور پر بخاری اور مسلم کی حدیثیں بڑے اہتمام سے لکھی گئی ہیں اور غالباً اکثر ان میں صحیح ہوں گی۔ لیکن کیونکر ہم اس بات پر حلف اٹھا سکتے ہیں کہ بلاشبہ وہ ساری حدیثیں صحیح ہیں جب کہ وہ صرف فلنی طور پر صیح ہیں نہ یقینی طور پر تو پھر یقینی طور پران کا صحیح ہونا کیونکر مان سکتے ہیں! الغرض میر امذ ہب یہی ہے کہ البتہ بخاری اور مسلم کی حدیثیں ظنی طور پر صحیح ہیں ۔ مگر جو حدیث صریح طور پر ان میں سے مبائن و مخالف قرآن کریم کے واقع ہوگی وہ صحت سے باہر ہو جائے گی۔ آخر بخاری اور مسلم پر وحی تو نازل نہیں تھی۔ بلکہ جس طریق سے انہوں نے حدیثوں کو جمع کیا ہے اس طریق پر نظر ڈالنے سے ہی معلوم ہوتا ہے کہ بلاشبہ وہ طریق ظنی ہے اور ان کی نسبت یقین کا ادعا کرنا ادعائے باطل ہے۔ دنیا میں جو اس قدر مخالف فرقے اہل اسلام میں ہیں خاص کر مذاہب اربعہ ان چاروں