اَلْحق مباحثہ لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 5 of 598

اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 5

روحانی خزائن جلد ۴ مباحثہ لدھیانہ کر رکھی تھی ۔ اور ہر ایک سرسری دیکھنے والے کو بھی وہ عمارتیں جو سراسر ریت پر اٹھائی گئی تھیں اس (۳) پر زور سیلاب کی زرو کے صدمہ سے بہتی نظر آنے لگیں۔ مدت کی مانی ہوئی بات کی الفت نے کسی حامی و معاون کی مشتاقانہ تلاش میں نگاہیں چاروں طرف دوڑا رکھی تھیں ۔ مولوی محمد حسین کے وجود میں انہیں مغتنم حامی اور عزیز حریف مقابل نظر آیا۔ کچی ارادت اور مضبوط عقیدت نے متفقا ہر طرف سے منقطع ہو کر اب مولوی ابوسعید صاحب کو امید و بیم کا مرجع قرار دیا۔ پنجاب کے اکثر مساجد نشین علماء نے ( جو بظاہر اپنے تئیں غیر مقلد ومحقق کہتے ہیں ) ایک آواز ہو کر بڑے فخر سے ہمارے بٹالوی مولوی صاحب کو اپنا وکیل مطلق قرار دیا۔ سب سے پہلے لاہور کی ایک برگزیدہ جماعت نے جنہوں نے اب تک اپنی عملی زندگی سے ثبوت دیا ہے کہ وہ اسلام کے سچے خیر خواہ اور حق پسند وحق میں لوگ ہیں میرے شیخ وحقیقی دوست مولوی نور الدین کو جبکہ وہ لودیا نہ میں اپنے مرشد حضرت مرزا صاحب کی خدمت میں حاضر تھے بڑے خلوص اور بڑے اصرار والحاح سے لاہور میں بلایا کہ وہ انہیں ان مسائل مشکلہ کی کیفیت پر آگاہ کریں۔ مولوی نورالدین صاحب کی تشریف آوری پر طبعا وہ اس طرف متوجہ ہوئے کہ مولوی ابوسعید صاحب کو جو ان دعاوی کے بطلان کے مدعی ہیں ان کے مقابل کھڑا کر کے جانبین کے اسلامیانہ مباحثہ اور صحابیانہ طرز مناظرہ سے حق دائر کو پالیں ۔ مگر افسوس ان کے زعم کے خلاف ایک حلیم، متواضع اور دل کے غریب مولوی کے مقابلہ میں جناب مولوی ابوسعید صاحب نے صحابہ کے طرز مناظرہ کا ثبوت نہ دیا مشتاقین کی تڑپتی روحوں کے تقاضا کے خلاف اصل بنائے دعوئی کو چھوڑ کر مولوی ابوسعید صاحب نے ایک خانہ ساز طومار اصول موضوعہ کا پیش کر کے حاضرین اور بے صبر مشتاقین کے عزیز وقت اور قیمتی آرزوؤں کا خون کر دیا اور معاملہ جوں کا توں رہ گیا۔ اس کے بعد حضرت مرزا صاحب کے دعاوی کی تائید میں کتا ہیں اور رسالے یکے بعد دیگرے شائع ہونے شروع ہوئے اور فوج فوج حق طلب لوگ اس روحانی اور پاک سلسلہ میں داخل ہونے لگے ۔ مدافعین و مخالفین نے بجائے اس کے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی حیات کی نسبت قرآن کریم اور حدیث صحیح صریح کی بنا پر استدلال کر کے اپنے پرانے عقیدہ کی حمایت کرتے اور لوگوں پر اس جدید دعوی کی کمزوری کو ثابت کرتے عادتاً تکفیر بازی کی پینگیں اور کنکوے