اَلْحق مباحثہ لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxvi of 598

اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page xxvi

پرچے صرف دو۲ ہوں گے اور موضوع مباحثہ یہ ہو گا کہ میں مثیل مسیحؑ ہوں اور یہ کہ حضرت مسیحؑ ابن مریم وفات پا چکے ہیں۔‘‘ (ملخصًا) مولوی محمد حسین صاحب نے اپنے خط میں دونوں شرطیں منظور کرتے ہوئے اپنی طرف سے دو۲ شرطیں بڑھا دیں۔جن میں سے ایک یہ تھی کہ ’’میں قبل از مباحثہ چند اصول کی تمہید کروں اور آپ سے ان کو تسلیم کراؤں‘‘ اور یہ آپ اپنے دعاوی جدیدہ کے جملہ دلائل درج کر کے مجھے بھیجیں۔اِس خط کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مدلّل اور مفصّل جواب لکھا۔لیکن یہ مجوزہ مباحثہ بھی نہ ہو سکا۔۱؂ پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ۳؍ مئی کو اشتہار شائع کیا جس میں علماء کو مباحثہ کے لئے دعوت دی اور اس میں مولوی محمد حسن صاحب رئیس لدھیانہ کو بھی مخاطب کیا اور لکھا کہ اگر آپ چاہیں تو بذاتِ خود بحث کریں اور چاہیں تو اپنی طرف سے مولوی ابو سعید محمد حسین کو بحث کے لئے وکیل مقرر کریں۔مباحثہ لدھیانہ اِس اشتہار کے شائع ہونے کے بعد مولوی محمد حسن صاحب رئیس لدھیانہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے درمیان مباحثہ کے لئے خط و کتابت ہوئی۔موضوع مباحثہ سے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تحریر فرمایا کہ ’’امرمبحوث عنہ وفات یاحیات مسیح ہو گا۔کیونکہ اس عاجز کا دعویٰ اِسی بناء پر ہے۔جب بناء ٹوٹ جاوے گی تو یہ دعویٰ خود ٹوٹ جاوے گا۔‘‘ (مکتوبات احمد جلداول مکتوب نمبر ۱۵ صفحہ ۳۳۱ جدید ایڈیشن ۲۰۰۸) مولوی محمد حسن صاحب نے حسب مشورہ مولوی محمد حسین بٹالوی یہ جواب دیا کہ ’’آپ کے اشتہار میں وفات مسیح اور اپنے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ پایا جاتا ہے لہٰذا میں یہ چاہتا ہوں کہ پہلے آپ کے مسیح موعود ہونے میں بحث ہو۔پھر حضرت ابن مریم کے فوت ہونے میں۔‘‘