اَلْحق مباحثہ لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxv of 598

اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page xxv

ہونے والا ہے اور شکست کھانے والا کون ہے؟ جو آسمان پر قرار پا گیاہے وہی زمین پر ہو گا گو دیر سے سہی‘‘ ۱؂ (مکتوبات احمد جلد اول مکتوب نمبر۱۲ صفحہ ۳۲۳ ایڈیشن ۲۰۰۸ء) پھر لاہور کی گفتگو سے متعلق لکھا:۔’’اصل بات تو اس قدر تھی کہ حافظ محمد یوسف صاحب نے مولوی صاحب ممدوح کی خدمت میں لکھا تھا کہ مولوی عبدالرحمن اس جگہ آئے ہوئے ہیں۔ہم نے اُن کو دو تین روز کے لئے ٹھہرا لیا ہے تا اُن کے روبرو ہم بعض شبہات اپنے آپ سے دُور کرا لیں اور یہ بھی لکھا کہ ہم اس مجلس میں مولوی محمد حسین صاحب کو بھی بُلالیں گے۔چونکہ مولوی صاحب موصوف حافظ صاحب کے اصرار کی وجہ سے لاہورمیں پہنچے اور منشی امیر الدین صاحب کے مکان پر اُترے اور اس تقریب پر حافظ صاحب نے اپنی طرف سے آپ کو بھی بُلا لیا۔تب مولوی عبدالرحمن صاحب تو عین تذکرہ میں اُٹھ کر چلے گئے اور جن صاحبوں نے آپ کوبلایا تھا انہوں نے مولوی صاحب کے آگے بیان کیا کہ ہمیں مولوی محمد حسین صاحب کا طریقِ بحث پسند نہیں آیا۔یہ سلسلہ تو دو برس تک بھی ختم نہیں ہو گا۔آپ خود ہمارے سوالات کا جواب دیجئے۔ہم مولوی محمد حسین صاحب کے آنے کی ضرورت نہیں دیکھتے اور نہ انہوں نے آپ کو بلایا ہے۔تب جو کچھ ان لوگوں نے پوچھا مولوی صاحب موصوف نے بخوبی اُن کی تسلّی کردی۔‘‘ ۲؂ ’’پھر بانشراح صدر حافظ محمد یوسف صاحب اور قریشی عبدالحق صاحب و منشی الٰہی بخش صاحب و منشی امیر دین صاحب اور مرزا امان اﷲ صاحب نے کہا۔ہماری تسلّی ہو گئی اور شکریہ ادا کیا۔کہا بلا حرج تشریف لے جایئے۔جب بلانے والوں نے کہا ہم مولوی محمد حسین صاحب کو بلانا نہیں چاہتے ہماری تسلّی ہو گئی تو آپ سے کیوں اجازت مانگتے۔‘‘(ملخصًا) اگر آپ کی یہ خواہش ہے کہ بحث ہونی چاہئے جیسا کہ آپ اپنے رسالہ میں تحریر فرماتے ہیں تو یہ عاجز بسر و چشم حاضر ہے مگر صرف تحریری بحث ہونی چاہئے۔اور