اَلْحق مباحثہ لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxiv of 598

اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page xxiv

’’لہٰذا اِسی (اشاعۃ السنہ) کا فرض اور اس کے ذمہ یہ ایک قرض تھا کہ اُس نے جیسا اس کو دعاوئ قدیمہ کی نظر سے آسمان پر چڑھایا تھا ویسا ہی اِن دعاوئ جدیدہ کی نظر سے اس کو زمین پر گرا وے اور تلافئ مافات عمل میں لاوے اور جب تک یہ تلافی پوری نہ ہولے تب تک بلاضرورتِ شدید کسی دوسرے مضمون سے تعرض نہ کرے۔‘‘ ۱؂ حضرت خلیفۃ المسیح اوّلؓ سے گفتگو اِس کے بعد لاہور کے چند احباب کی خواہش پر حضرت مولوی حکیم نور الدین رضی اﷲ عنہ ۱۳؍ اپریل کو لاہور پہنچے اور منشی امیر الدین صاحب کے مکان پر فروکش ہوئے۔۱۴؍ اپریل کی صبح کو مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کو بھی بلایا گیا۔جب وہ تشریف لائے تو محمد یوسف صاحب نے فرمایا کہ آپ کو ’’اس غرض سے بلایا ہے کہ آپ مرزا صاحب کے متعلق حکیم صاحب سے گفتگو کریں۔‘‘ مولوی محمد حسین صاحب نے کہا کہ قبل از بحث مقصود چند اصول آپ سے تسلیم کرانا چاہتا ہوں۔اور ان اصول سے متعلق گفتگو ہوئی۔گفتگو کے بعد اپنے طور پر ان دوستوں نے آپ سے وفات و حیات مسیحؑ او ریہ کہ حضرت عیسیٰ ؑ صلیب پر نہیں مرے تھے وغیرہ امور سے متعلق باتیں سُنیں اور چونکہ آپ کو واپس جانا ضروری تھا اِس لئے آپ لاہور بُلانے والوں سے اجازت لے کر واپس لدھیانہ پہنچ گئے (اِس کی تفصیلی رپورٹ ضمیمہ پنجاب گزٹ مؤرخہ ۲۵؍اپریل ۱۸۹۱ء ؁میں درج ہے) ۱۵؍ اپریل کو مولوی محمد حسین صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس مضمون کا تار دیا:۔’’تمہارے ڈیسائپل (حواری) نور الدین نے مباحثہ شروع کیا اور بھاگ گیا۔اس کو واپس کریں یا خود آویں ورنہ یہ متصوّر ہو گا کہ آپ نے شکست کھائی‘‘ ۲ ؂ اِس تار کے جواب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ۱۶؍ اپریل کو ایک خط لکھا اور ایک خاص آدمی کے ذریعہ مولوی محمد حسین صاحب کو لاہور پہنچایا۔اُس خط میں آپ نے تحریر فرمایا :۔’’اے عزیز! شکست اور فتح خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔جس کو چاہتا ہے فتح مند کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے شکست دیتا ہے۔کون جانتا ہے کہ واقعی طور پر فتح مند کون