اَلْحق مباحثہ لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxiii of 598

اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page xxiii

اگر آپ ہندوستان کی طرف سفر کرنا چاہتے ہیں تو لدھیانہ راہ میں ہے کیا بہتر نہیں کہ لدھیانہ میں ہی یہ مجلس قرار پائے۔ورنہ جس جگہ غزنوی صاحبان اور مولوی عبدالرحمن (اس عاجز کو ملحد اور کافر قرار دینے والے) یہ جلسہ منعقد ہونا مناسب سمجھیں تو اس جگہ یہ عاجز حاضر ہو سکتا ہے۔مکرر یہ کہ ۲۳؍مارچ ۱۸۹۱ء ؁تاریخ جلسہ مقرر ہو گئی ہے اور یہ قرار پایا ہے کہ بمقام امرتسر جلسہ ہو۔‘‘ ۹؍ مارچ ۱۸۹۱ء ؁ کو مولوی محمد حسین صاحب نے لکھا :۔’’کہ تجویز مجمع علماء کی تحریک میری طرف سے نہیں ہوئی۔لہٰذا میں ان شرائط کا ذمہ دار نہیں ہو سکتا جو میری ذات خاص سے متعلق نہ ہوں۔‘‘ یہ خط و کتابت کا سلسلہ ۳۰؍ مارچ تک جاری رہا۔مولوی محمد حسین صاحب لکھتے ہیں کہ :۔۲۹؍ مارچ ۱۸۹۱ء ؁ کو لدھیانہ سے ایک خط پہنچا جو نہ تو مرزا صاحب کے قلم کا لکھا ہوا تھا اور نہ اس پر مرزا صاحب کا دستخط ثبت تھا اور اس کے ساتھ مرزا صاحب کا وہ اشتہار پہنچا جو۲۶؍مارچ۱۸۹۱ء ؁ کو انہوں نے شائع کیا تھا۔‘‘ اِس خط پر مولوی صاحب مذکور نے یہ لکھ کر واپس کر دیا کہ:۔’’اِس خط پر مرزا صاحب کا دستخط نہیں ہے لہٰذا واپس ہے۔‘‘ یکم اپریل کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ لکھ کر کہ ’’اس عاجز کی منشاء کے موافق ہے۔‘‘ اُسے پھر مولوی محمد حسین صاحب کو واپس بھیج دیا۔جس کے جواب میں مولوی صاحب نے لکھا کہ ’’اس خط اور اس اشتہار (مؤرخہ ۲۶؍ مارچ ) سے آپ نے دوستانہ اور برادرانہ تعلقات کو قطع کر دیا ہے اور مخاصمانہ مباحثہ کی بناء کو قائم و مستحکم کر دیا۔لہٰذا ہم بھی آپ سے دوستانہ و برادرانہ بحث بلکہ پرائیویٹ ملاقات تک نہیں چاہتے۔اور مخاصمانہ مباحثہ کے لئے حاضر و مستعد ہیں۔‘‘ ۱؂ اس کے بعد مولوی صاحب نے ’’اشاعۃ السنۃ‘‘ میں یہ ذکر کر کے کہ اب ’’اشاعۃ السنۃ‘‘ صرف آپ کے دعاوی کا ردّ شائع کرے گا اور آپ کی جماعت کو تتر بتر کرنے کی کوشش کرے گا اور یہ کہ ’’اشاعۃ السنہ‘‘ کا ریویو براہین آپ کو امکانی ولی و ملہم نہ بناتا تو آپ تمام مسلمانوں کی نظر میں بے اعتبار ہو جاتے اور یہ کہ اِسی نے آپ کو حامی اسلام بنا رکھا تھا ، لکھا:۔