اَلْحق مباحثہ لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 124 of 598

اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 124

روحانی خزائن جلد ۴ ۱۲۴ مباحثہ لدھیانہ ۱۳۲) نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کر یگا اور بڑے زور آور حملوں سے اسکی سچائی ظاہر کر دیگا۔ سوئیں جانتا ہوں کہ میرا خدا ایسا ہی کرے گا۔ میں کسی کے منہ کی پھونکوں سے معدوم نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ وہ جس نے مجھے بھیجا ہے میرے ساتھ ہے وہ میری حمایت کریگا ضر ور حمایت کریگا۔ اور میری صداقت میرے آسمانی نشان دیکھنے والوں پر ظاہر ہے گو آپ پر ظاہر نہ ہو۔ اسی مجلس میں بعض لوگ ایسے موجود ہیں کہ وہ حلف اُٹھا کر کہہ سکتے ہیں کہ آسمانی نشان انہوں نے مجھ سے دیکھے ہیں۔ شیخ مہر علی صاحب رئیس ہوشیار پور بھی حلف اٹھا کر یہ شہادت دے سکتے ہیں کہ میں نے چھ مہینہ پہلے ان پر ایک بلا نازل ہونے کی ان کو اطلاع دی اور عین اس وقت میں کہ جب پھانسی کا حکم ان کے لئے صادر ہو چکا تھا ان کے انجام بخیر اور نجات پا جانے کی خبر استجابت دعا کے بعد ان تک پہنچادی۔ میں نے سنا ہے کہ یہ خبر ہوشیار پور اور اس ضلع میں اس کثرت سے پھیل گئی کہ ہزاروں آدمی اس کے گواہ ہیں۔ پھر میں نے اپنی زبان سے دلیپ سنگھ کی ناکامی اور ہندوستان میں نہ داخل ہونے کی پیش از وقت خبر دی اور صدہا آدمیوں کو زبانی سنایا اور اشتہار شائع کیا اور پنڈت دیانند کے تین مہینہ تک فوت ہونے تک پہلے سے خبر دے دی اور اللہ جل شانہ خوب جانتا ہے کہ شاید تین ہزار کے قریب ایسے امور میرے پر ظاہر ہوئے ہیں کہ وہ ٹھیک ٹھیک ظہور میں آگئے ہیں۔ میں یہ دعوی نہیں کرتا کہ کبھی میرے مکاشفات میں خالہ انہی کی وجہ سے خطا واقع نہیں ہوتی کیونکہ اس وجہ سے تو نبیوں کے مکاشفات میں بھی کبھی کبھی خطا واقع ہو جاتی ہے بخاری کی حدیث فذهب وهلی بہتوں کو یاد ہوگی حضرت مسیح کی غلط پیشگوئی یہودا اسکر یوطی کی نسبت کہ وہ بارہویں تخت کا مالک ہے ابتک کسی عمدہ تاویل کے رو سے صحیح نہیں ہو سکی لیکن کثرت کی طرف دیکھنا چاہیئے جولوگ مجھے مفتری سمجھتے ہیں اور اپنے تیں صاف پاک اور متقی قرار دیتے ہوں میں ان کے مقابل پر اس طور کے فیصلہ کیلئے راضی ہوں کہ چالیس دن مقرر کئے جائیں اور ہر ایک فریق اِعْمَلُوْا عَلَى مَكَانَتِكُمْ إِنِّی عَامِل کے پر عمل کر کے خدا تعالی سے کوئی آسمانی خصوصیت اپنے لئے طلب کرے۔ جو شخص اس میں صادق نکلے اور بعض مغیبات کے اظہار میں خدائے تعالی کی تائید اس کے شامل حال ہو جائے وہی سچا قرار دیا جائے۔ اے حاضرین اسوقت اپنے کانوں کو میری طرف متوجہ کرو کہ میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر حضرت مولوی محمدحسین صاحب چالیس دن تک میرے مقابل پر خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کر کے وہ آسمانی نشان یا اسرار غیب دکھلا سکیں جو میں دکھلا سکوں تو میں قبول کرتا ہوں کہ جس ہتھیار سے چاہیں مجھے ذبح کر دیں اور جو تاوان چا ہیں میرے پر لگادیں۔ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اسکو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کریگا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دیگا۔ بالآخر میں لکھتا ہوں کہ اب میں یہ موجودہ بحث اے حق پژدہ ناظرین اللہ غور کر کے اس جملہ کو اور آئندہ جملہ اب ان تمہیدی امور میں “ الخ کو پڑھیے گا اور پھر مقابلہ کیجئے گا مولوی محمد حسین صاحب کے لدھیانہ والے اشتہار کے ساتھ جس میں آپ نے کس بے باکی سے حضرت مرزا صاحب کا آئندہ اجرائے بحث سے فرار کرنا لکھ مارا ہے۔ حضرت مرزا صاحب کا کیا مطلب اور کیا منشا ہے اور مولوی صاحب اسے کس قالب میں ڈالتے ہیں۔ كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ إِنْ يَقُولُونَ إِلَّا كَذِبًا ے ایڈیٹر۔ الانعام : ۲۱۳۶