اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 114
روحانی خزائن جلد ۴ ۱۱۴ مباحثہ لدھیانہ سے شرم کریں۔ آپ نے صرف ایک آدمی کا پتہ مانگا تھا جو احادیث مختلفہ کی نسبت عرض علی القرآن کا قائل ہو۔ لیکن ہم نے کئی امام اور بزرگوار اس عقیدہ کے رکھنے والے پیش کر دئیے ۔ مکرر یہ کہ آپ یا درکھیں کہ شیخ طوسی کا تعین سال تک آیت کی طلب و تلاش میں لگے رہنا شیخ کے اس مذہب کو ظاہر کر رہا ہے جو اسکا حدیث ترک الصلوۃ کے صحت کی نسبت اور پھر تصدیق قرآنی کی ضرورت کی نسبت تھا۔ اگر آپ قرائن موجود ہ سے نہیں سمجھیں گے تو اور سمجھنے والے دنیا میں بہت ہیں انہیں کو فائدہ ہوگا۔ قولہ ۔ میں قرآن کو امام جانتا ہوں ۔ اقول ۔ یہ سراسر خلاف واقع ہے اگر آپ قرآن کو امام اور ہادی اول جانتے تو آپ کے انکارا اور ضد کی یہ نوبت کیوں پہنچتی ؟ آپ فرماتے ہیں کہ ”میرے پر یہ افترا ہے کہ میری نسبت بیان کیا گیا کہ میں قرآن کے امام ہونے کا منکر ہوں۔ اس آپ کی دلاوری کا میں کیا جواب دوں خود لوگ معلوم کرلیں گے ۔ + قولہ۔اے خدا کی مخلوق خدا سے ڈرو۔ اقول ۔ حضرت کچھ آپ بھی تو ڈر کریں * لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللهِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ قوله - به گمان که امام بخاری نے دمشقی حدیث کو ضعیف جان کر چھوڑ دیا ہے یہ بات وہ ہی شخص کہے گا جس کو حدیث کے کوچہ میں بھولے سے بھی کبھی گزر نہیں ہوا۔ اقول ۔ حضرت آپ کے اس بیان سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ کو اس کو چہ میں خود گذرنہیں آپ نہیں ہاں مولوی صاحب ایک ناصح عارف باللہ کی بات مان لیجئے اس سے آپ کی شان کو کوئی بلہ نہیں لگنے کا بلکہ تمام خدا شناس آپ کو قدر و عزت کی نگاہ سے دیکھیں گے مگر افسوس ایک مولوی کا اپنی مشہور کردہ رائے سے رجوع کرنا ایسا ہی ہے جیسا اونٹ کا سوئی کے ناکے سے گزرنا ۔ وَاللهُ يَهْدِى مَنْ يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ " ایڈیٹر حاشیه صفحه ۱۱۳ لا حاشيه نوٹ ۔ ضرور ۔ تیراز کمان جستہ باز بدست نمے آید۔ ایڈیٹر حضرت وہ کیوں ڈریں اس زمانہ کے مولویوں پر کچھ اس کی پابندی ضروری نہیں کہ جو کچھ وہ لوگوں کو کہیں خود بھی اس پر عمل کیا کریں۔ اسی سے تو خلق خدا میں فتنہ برپا ہو گیا ہے اور اسی فتنہ اور ان مولویوں کی کجیوں اور ناراستیوں کی اصلاح کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضور کو دنیا میں بھیجا ہے سعادت مند ہے وہ جو آپ کو پہچانے ۔ ایڈیٹر الصف : ۴۳ ٢ البقرة : ۲۱۴