اَلْحق مباحثہ لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 112 of 598

اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 112

روحانی خزائن جلد ۴ ۱۱۲ مباحثہ لدھیانہ قولہ۔ آپ کے ایسے دلائل واقاویل سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو فن حدیث کے کوچہ سے بالکل نا آشنائی ہے۔ اقول ۔ حضرت مولوی صاحب اس زمانہ میں جو صحیحین اردو میں ترجمہ ہو چکی ہیں فن حدیث کا کوچہ کوئی ایسا دشوار گذار راہ نہیں رہا جس پر خاص طور پر آپ کا ناز زیبا ہو۔ عنقریب زمانہ آنے والا ہے بلکہ آ گیا ہے کہ اردو میں حدیثوں کا تو غل رکھنے والے اپنی دماغی اور دلی روشنی کی وجہ سے عربی خوان نجی طبع ملاؤں پر ہنسیں گے اور استاد بن کر انہیں دکھا ئیں گے ۔ میں حضرت محض اللہ آپ کو صلاح دیتا ہوں کہ اب آپ اپنی علمی نمائش کو کم کر دیں کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک فضیلت تقویٰ میں ہے۔ اس ناحق کی نفسانی خودستائی اور دوسرے کی تحقیر سے حاصل کیا؟ اور طرفہ تر یہ کہ آپ تو میرے پر نادانی اور نالیاقتی کا الزام لگانا چاہتے ہیں ۔ مگر خدا تعالیٰ وہی الزام لوٹا کر آپ پر نازل کرنا چاہتا ہے ۔من اراد هتک ستراخيه هتک الله ستره ان الله لايحب كل مختال فخور والله بصير بالعباد ولا يحب الله الجهر بالسوء من القول الامن ظلم۔ قوله - صاحب تفسیر حسینی یا شیخ محمد اسلم طوسی نے حدیث کو قرآن پر عرض کرنے کے بارہ میں آپ کی مانند یہ اصول تو نہیں ٹھہرایا کہ احادیث صحیحہ مسلم الصحت کی صحت ثابت ہو جانے کے بعد ان کی صحت کا امتحان قرآن سے کیا جائے۔ اور جب تک وہ حدیث مطابق قرآن ثابت نہ ہو اس کو صحیح نہ سمجھا جائے۔ اقول تغییر حسینی کی عبارت سے یہ ظاہر ہے کہ شیخ محمد ابن اسلم طوسی تمین سال تک اس بارہ میں فکر کرتے رہے کہ حدیث ترک صلوٰۃ کی تصدیق جس کا مضمون یہ ہے کہ جو کوئی نماز کو عمداً چھوڑے وہ کافر ہو جاتا ہے قرآن سے ثابت ہو۔ اب ظاہر ہے کہ اگر یہ حدیث قانون روایت کے لحاظ سے ان کے نزدیک موضوع ہوتی تو پھر اس کی مطابقت کیلئے قرآن کی طرف توجہ کرنا ایک فضول امر اور بیہودہ کام تھا۔ کیونکہ اگر حدیث موضوع تھی تو پھر اس کا خیال دل سے دفع کیا ہوتا۔ کیا یہ قریب قیاس ہے کہ کوئی دانا ایک حدیث کو موضوع سمجھ کر پھر اس موضوع کی تصدیق کے لئے تین سال تک اپنا وقت ضائع کرے ۔ ظاہر ہے کہ جس حدیث کو پہلے سے موضوع سمجھ لیا پھر اس کی تصدیق قرآن سے طلب کرنا چہ معنے دارد! بلکہ حق اور واقعی بات جو قرائن موجودہ سے معلوم ہوتی ہے یہ ہے کہ ایک طرف تو شیخ محمد اسلم طوسی کو اس حدیث کی صحت پر وثوق کامل تھا اور دوسری طرف بظاہر نظر قرآن کی عام تعلیم سے اس کو مخالف پاتا تھا اس لئے اس نے صحیح بخاری کی اس حدیث کے موافق جس میں عرض علی القرآن کا ذکر ہے کتاب اللہ سے اس کی موافقت