اَلْحق مباحثہ لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 103 of 598

اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 103

روحانی خزائن جلد ۴ ۱۰۳ مباحثہ لدھیانہ کو بھی حدیث دانی میں آپ سے کچھ نسبت نہیں۔ اسلئے بقول سعدی ” ندارد کسے با تو نا گفتہ کار ولیکن چوگفتی دلیلش بیار چاہتا ہوں کہ چھ سات حدیثیں بخاری اور مسلم کی یکے بعد دیگرے جن میں میری نظر میں تعارض * ہے آپ کی خدمت میں پیش کروں ۔ اگر آپ ان میں توفیق و تالیف امام ابن خزیمہ کی طرح کر دکھا ئیں گے ی مولوی صاحب لیجئے ۔ سردست کسی قدر تعارض کا نمونہ یہ عاجز پیش کرتا ہے۔ موقع ہے۔ موقع ہے۔ اپنی حدیث دانی کا ثبوت لوگوں پر ظاہر کیجئے ۔ (۱) معراج کی حدیث بروایت شریک کے حاشیہ پر فتح الباری کی یہ عبارت لکھی ہے۔ قال النووى جاء في رواية شريك اوهام انـكـرها العلماء من جملتها انه قال ذالك قبل ان يوحى اليه و هو غلط لم يوافق عليه احد و ايضا اجمعوا على ان فرض الصلوة كانت ليلة الاسراء فكيف يكون قبل الوحى و قول جبرائيل في جواب بواب السماء - اذ قال ابعث؟ نعم۔ صريح في انه كان بعد البعث ترجمہ نووی کہتا ہے کہ شریک کی روایت میں کتنے وہم ہیں جن پر علماء نے اعتراض کیا ہے ازاں جملہ ایک یہ کہ شریک کی روایت میں قبل ان يوحى اليہ لکھا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج بعثت سے پہلے ہوئی اور یہ صریح غلط ہے جس پر کسی نے اتفاق نہیں کیا۔ علاوہ اسکے علماء اس پر اتفاق کر چکے ہیں کہ نمازیں معراج کی رات میں فرض کی گئی تھیں ! پھر قبل از وحی کیونکر فرض ہو سکتیں تھیں !! اور عجب تر اس حدیث میں یہ تعارض ہے کہ حدیث کے سر پر تو یہ لکھا ہے که قبل از بعثت و نبوت معراج ہوئی اور پھر آئندہ عبارتیں حدیث کی اپنی صریح منطوق سے ظاہر کر رہی ہیں کہ یہ معراج بعد از بعثت ہوئی اور اسی حدیث میں نمازوں کی فرضیت کا ذکر بھی ہے سو یہ حدیث کتنے تعارض سے بھری ہے ۔ (۲) پھر بخاری کی کتاب التفسیر صفحہ ۶۵۲ میں ایک حدیث ہے جس کی یہ عبارت ہے۔ مامن مولود يولد الا والشيطان يمسه فيستهل صارخا من مس الشيطان اياه الامــيــم وابنها یعنی کوئی ایسا بچہ نہیں جو پیدا ہوا اور پیدا ہونے کے ساتھ شیطان اس کو نہ چھو جائے اور وہ بوجہ شیطان کے چھونے کے چھینیں نہ مارے بجز مریم اور اس کے بیٹے کے جاننا چاہئے کہ یہ حدیث صفحہ ۷۶ے کی حدیث سے معارض پڑتی ہے اور شارح بخاری صفحہ ۶۵۲ کی حدیث کے حاشیہ پر لکھتا ہے کہ زمخشری کو اس حدیث کی صحت میں کلام ہے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے کلام کے معارض ہے وجہ یہ کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ اس آیت سے صاف سمجھا جاتا ہے کہ بغیر خصوصیت مریم اور ابن مریم کے تمام عباد خلصین مس شیطان سے محفوظ رکھے جاتے ہیں الحجر: ام