اَلْحق مباحثہ لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 101 of 598

اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 101

روحانی خزائن جلد ۴ 1+1 مباحثہ لدھیانہ اور خفت اور لاعلمی ظاہر کریں۔ لیکن یاد رکھیں کہ مجھے بعض ملاؤں کی طرح لوگوں کی مدح و ثنا کی طرف ۹۹ خیال نہیں اور نہ عوام کی تحسین و نفرین کی کچھ پروا۔ ہر ایک دانا بلکہ ایک بچہ بھی سمجھ سکتا ہے کہ صحیح بخاری کی حدیثیں امام محمد اسمعیل کا اپنا ایجاد تو نہیں تا یہ اعتراض ہو کہ جب تک کوئی متقدمین سے امام بخاری کا زمانہ نہ پاتا اور انکی کتاب کو نہ پڑھتا تب تک محال تھا کہ ان حدیثوں پر اس کو اطلاع ہوتی بلکہ حدیثوں کے رواج اور زبانی شیوع کا زمانہ اسی وقت یعنی قرن اول سے شروع ہوا ہے جب کہ امام بخاری صاحب کے جد امجد بھی پیدا نہیں ہوئے ہوں گے تو پھر کیا محال تھا کہ وہ حدیثیں جن کی تبلیغ کی صحابہ کو تا کید تھی امام اعظم کو نہ پہنچتیں بلکہ قریب یقین کے یہی ہے کہ ضرور پہنچی ہوں گی کیونکہ ان کا زمانہ قرن اول سے قریب تھا اور بہت حفاظ حدیث کے زندہ تھے اور خاص اسی ملک میں رہتے تھے جو سر چشمہ حدیث کا تھا۔ پھر تعجب کہ بخاری جو زمانی اور مکانی طور پر امام اعظم صاحب سے کچھ نسبت نہیں رکھتے تھے ایک لاکھ حدیث صحیح اکٹھی کر لیں۔ اور ان میں چھیانوے ہزار صحیح حدیث کو ردی مال کی طرح ضائع کر دیں۔ اور امام اعظم صاحب کو باوجود قرب زمان اور مکان کے سو حدیث بھی نہ پہنچ سکے۔ کیا کسی کا نور قلب یہ گواہی دیتا ہے کہ ایک شخص بخارا کا رہنے والا جو بہت دور حد و دعرب سے اور نیز دوسو برس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیدا ہو وہ لاکھ حدیث صحیح حاصل کر لے اور امام اعظم صاحب جیسے بزرگوار فانی فی سبیل اللہ کو نماز کے بارہ میں بھی دو چار صحیح حدیثیں باوجود قرب زمان اور مکان کے نہ مل سکیں ! اور ہمیشہ بقول مولوی محمد حسین صاحب کے انکلوں سے کام لیتے رہے! اے حضرت مولوی صاحب آپ ناراض نہ ہوں آپ صاحبوں کو امام بزرگ ابو حنیفہ سے اگر ایک ذرہ بھی حسن ظن ہوتا تو آپ اس قدرشبکی اور استخفاف کے الفاظ استعمال نہ کرتے آپ کو امام صاحب کی شان معلوم نہیں وہ ایک بحر اعظم تھا اور دوسرے سب اس کی شاخیں ہیں اسکا نام اہل الرائے رکھنا ایک بھاری خیانت ہے! امام بزرگ حضرت ابوحنیفہ کو علاوہ کمالات علم آثار نبویہ کے استخراج مسائل قرآن میں یدطولیٰ تھا خدا تعالیٰ حضرت مجدد الف ثانی پر رحمت کرے انہوں نے مکتوب صفحہ ۳۰۷ میں فرمایا ہے کہ امام اعظم صاحب کی آنیوالے مسیح کے ساتھ استخراج مسائل قرآن میں ایک روحانی مناسبت ہے۔