اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 96
روحانی خزائن جلد ۴ ۹۶ مباحثہ لدھیانہ (۹۴) سو یہ علامہ نووی کا جرح آپ لوگوں کی توجہ کے لائق ہے کیونکہ علامہ نووی کی شان فن حدیث میں کسی مخفی نہیں اور علامہ تفتازانی نے اپنی تلویح میں صحیح بخاری کی ایک حدیث کو موضوع قرار دیا ہے اور ہمارا مذہب تو یہی ہے کہ ہم ظن غالب کے طور پر بخاری اور مسلم کو صحیح سمجھتے ہیں واللہ اعلم بالصواب ۔ اور شرح مسلم الثبوت میں لکھا ہے۔ ابن الصلاح وطـائـفـة مــن الـمـلـقبـيـن بــاهـل الحديث زعموا ان رواية الشيخين محمد ابن اسماعيل البخاري ومسلم بن الحجاج صاحبي الصحيحين يفيد العلم النظرى للاجماع على ان للصحيحين مزية على غير هما وتلقت الامة بقبولهما والاجماع قطعى وهذا بهت فان من راجع الى وجدانه يعلم بالضرورية ان مجرد روايتهما لايوجب اليقين البتة وقد روى فيهما اخبار متناقضة فلوا فاد روايتهما علما لزم تحقق النقيض في الواقع وهذا اى ماذهب اليه ابن الصلاح واتباعه بخلاف ماقاله الجمهور من الفقهاء والمحدثين لان انعقاد الاجماع على المزية على غيرهما من مرويات ثقات أخرين بقیه حاشیه عمداً کذب اور افترا کیا ہے کیونکہ احتمال قوی ہے کہ حضرت علامہ موصوف نے کسی قلمی نسخے میں بخاری شریف کی یہ حدیث ضرور دیکھی ہوگی۔ بخاری کے مختلف نسخوں پر گہری نگاہ ڈالنے سے اب تک ثابت ہوتا ہے کہ باوجود سخت کوشش تصحیح وتطبیق کے پھر بھی بعض الفاظ بعض نسخوں کے بعد دوسرے نسخوں کے الفاظ سے مغائر ہیں۔ پھر کیا تعجب کا مقام ہے کہ کسی پرانے قلمی نسخے بخاری میں جو علامہ موصوف کی نظر سے گذرا یہ حدیث موجود ہو بلکہ یقین کا پلہ اسی جانب کو جھکتا ہے کہ ضرور کسی نسخے میں یہ حدیث لکھی ہوگی ایک ایسے مسلمان کی شہادت جوا کا بر فقہائے حنفیہ میں سے ہے ہرگز ساقط الاعتبار نہیں ہو سکتی کس کا ایسا دل گردہ ہے اور کس کا اسلام و ایمان اس امر کور وار کھتا ہے کہ ایسے بزرگ علماء اسلام ایسے خدا ترس فاضلوں کو کذب و افترا اور فاحش دروغ باغی کی تہمت لگائی جائے ۔ اور اس میں شک نہیں کہ اگر یہ شہادت خلاف واقعہ ہوتی تو علامہ کی زندگی میں ہی یہ مقام تلویح کا ترمیم کے لائق ٹھہرتا نہ یہ کہ اب تک یہ عبارت تلویح میں محفوظ چلی آتی ۔ غرض جس حالت میں صاحب تلویح کی شہادت سے یہ ثابت ہوا ہے کہ بخاری کے کسی نسخے میں یہ عبارت لکھی ہوئی تھی تو جب تک دنیا کے تمام قلمی نسخے دیکھ نہ لئے جائیں یہ احتمال ہرگز اٹھ نہیں سکتا۔ اور بخاری کے کسی قلمی نسخے میں اسکا موجود ماننا بہت آسان ہے بہ نسبت اسکے کہ ایک برگزیدہ عالم کی نسبت افترا و اختلاق کی تہمت لگائی جائے