اَلْحق مباحثہ لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 95 of 598

اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 95

روحانی خزائن جلد ۴ ۹۵ مباحثہ لدھیانہ کی مسجدیں بھی آپ کی مساجد کی طرح آئین کے شور سے گونج اٹھتیں اور نیز وہ رفع یدین اور ایسا ہی تمام ۹۳ اعمال حسب ہدایت بخاری و مسلم بجا لاتے اور آپ کا یہ کہنا کہ وہ لوگ حدیث کو مسلم اور واجب اعمل ٹھہراتے صرف دوسرے طور پر معنے کرتے ہیں یہ دوسرا جھوٹ ہے حضرت وہ تو صریح ضعیف یا منسوخ قرار دیتے ہیں۔ اگر آپ اس بات میں سچے ہیں تو شہر لدھیانہ کے علماء جمع کر کے اپنے قول کی شہادت ان سے دلا دور نہ یہ آپ کا افترا ایسا نہیں ہے جس سے آپ کچے عذروں کے ساتھ بری ہوسکیں۔ قوله - امام ابن الصلاح نے فرمایا ہے کہ صحیحین کی اتفاقی حدیثیں موجب یقین ہیں اور امام نووی نے شرح مسلم میں فرمایا ہے کہ اس پر اتفاق ہو گیا ہے کہ اصح الکتب بعد کتاب اللہ صحیحین ہیں ۔ اقول کسی ایک یا دو شخص کا اپنی طرف سے رائے ظاہر کرنا حجت شرعی نہیں ہو سکتا پس اگر امام ابن الصلاح نے صحیحین کی اتفاقی حدیثوں کو عام طور پر موجب یقین مان لیا ہے تو ما نا کرے ہمارے لئے وہ کچھ حجت نہیں۔ اگر ایسی متفق را ئیں حجت ٹھہر سکتی ہیں تو پھر ان لوگوں کی رائیں بھی حجت ہونی چاہئیں جنہوں نے بخاری اور مسلم کی بعض حدیثوں کا قدح کیا ہے ۔ چنانچہ تلویح میں لکھا ہے کہ بخاری میں یہ حدیث ہے تکثر لکم الاحاديث من بعدى فاذا روى لكم حديث فاعرضوه على كتاب الله تعالى فما وافقه فاقبلوه وما خالفه فردوہ یعنی میرے بعد حدیثیں کثرت سے نکل آئیں گی سو تم یہ قاعدہ رکھو کہ جو حدیث تم کو میرے بعد پہنچے یعنی جو حدیث ما اتاکم الرسول کے زمانہ کے بعد ملے اس کو کتاب اللہ پر عرض کرو اگر اس کے موافق ہو تو اس کو قبول کرو اور اگر مخالف ہوتو رد کر و ۔ هـذا مـانـقـلـنـاه من كتاب التلويح والعهدة على الراوي * اور منهاج شرح صحیح مسلم میں حافظ ابوز کریا بن شرف النووی نے حدیث شریک پر جو مسلم اور بخاری دونو میں ہے جرح کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ فقرہ کہ ذلک قبل ان يوحى اليه ہے غلط صریح ہے حاشیه صحیح بخاری کے جس قدر مطبوعہ نسخے ہم نے دیکھے ہیں ان میں یہ حدیث بایں الفاظ پائی نہیں جاتی ۔ گو دوسری حدیثیں ایسی بخاری میں موجود ہیں جو اپنے مال اور ماحصل اور مفہوم میں اس حدیث کے معانی کے ممد و مقوی ہیں ۔ اور مسلم میں ہے اما بعد فان خير الحديث كتاب الله ـ انــمـا هلك من كان قبلكم باختلافهم في الكتاب اور دار قطنی میں ہے ۔ کلامي لا ينسخ كلام الله۔ المراء في القرآن كفر رواه احمد وابوداؤد ـ وفي البخاري قال عمر رضى الله عنه حسبنا کتاب الله لیکن ان مطبوعه نسخوں میں اس حدیث کا بالفاظہ نہ پایا جانا اس پر دلالت نہیں کرتا کہ علامہ تفتازانی نے