اَلْحق مباحثہ لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 94 of 598

اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 94

۹۴ روحانی خزائن جلد۴ مباحثہ لدھیانہ (۹۲) معیار اور محک ہے گو عام طور پر بوجہ عدم بصیرت اس معیار سے وہ کام نہیں لے سکتے لیکن حدیث کے دونوں حصوں میں جو ہم بیان کر آئے ہیں حصہ ثانی کی نسبت جو اخبار اور واقعات اور قصص اور وعدے وغیرہ ہیں جن پر سخ جاری نہیں بے شک وہ کھلے کھلے طور پر قرآن کریم کے محکمات اور بینات اور قطعی اور یقینی فیصلجات کو احادیث مرویہ کے پر کھنے کیلئے محک اور معیار ٹھہرا سکتے ہیں بلکہ ضرور ٹھہرانا چاہئے تا وہ اس علم سے مستفید ہو جائیں جو ان کو دیا گیا ہے کیونکہ قرآن کریم کی محکمات اور بینات علم ہے اور مخالف قرآن کے جو کچھ ہے وہ فن ہے۔ اور جو شخص علم ہوتے ظن کا اتباع کرے وہ اس آیت کے نیچے داخل ہے مَا لَهُم بذلك مِن عِلمٍ إِنْ يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَإِنْ هُمْ إِلَّا يَخْرُصُونَ قولہ۔ آپ نے جو باستدلال آیت وَإِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِي مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا " احادیث پر اعتراض کیا ہے یہ آپ کی نا واقعی پرمبنی ہے۔ اقول ۔ آپ کیوں بار بار اپنی نافہمی ظاہر کرتے ہیں میرا اعام طور پر احادیث پر اعتراض نہیں بلکہ ان احادیث پر اعتراض ہے جو ادلہ قطعیہ مینہ صریحہ قرآن کریم سے مخالف ہوں ۔ قولہ ۔ علماء اسلام کا حنفی ہوں یا شافعی اہل حدیث ہوں یا اہل فقہ اس بات پر اتفاق ہے کہ خبر واحد صحیح ہوتو واجب اعمل ہے۔ اقول ۔ آپ کی علمیت اور لیاقت اور واقفیت بات بات میں ظاہر ہو رہی ہے ۔ حضرت سلامت حفیوں کا ہرگز یہ مذہب نہیں کہ مخالفت قرآن کی حالت میں خبر واحد واجب العمل ہے اور نہ شافعی کا یہ مذہب ہے بلکہ فقہ حنفیہ کا تو یہ اصول ہے کہ جب تک اکثر قرنوں میں تواتر حدیث کا ثابت نہ ہو ۔ گو پہلے قرآن میں نہیں مگر جب تک بعد میں اخیر تک تو اتر نہ ہو تب تک ایسی حدیث کے ساتھ قرآن پر زیادت جائز نہیں اور شافعی کا یہ مذہب کہ اگر حدیث آیت کے مخالف ہو تو باوجود تو اتر کے بھی کا لعدم ہے پھر آپ نے کہاں سے اور کس سے سن لیا کہ ان سب کے نزدیک خبر واحد بہر حال واجب العمل ہے؟ اگر یہ کہو کہ ہمارا منشاء اس کلام سے یہ ہے کہ اگر خبر واحد مخالف قرآن کے نہ ہو تو اس صورت میں ان بزرگوں کے نزدیک واجب العمل ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ آپ کا کب اور کس دن یہ منشاء ہوا تھا؟ اگر آپ کا یہ منشاء ہوتا تو آپ اس بحث کو کیوں طول دیتے ! قوله ۔ اسی وجہ سے ( جو خبر واجب العمل ہے ) علماء اسلام نے جس میں مقلد ومحدث سب داخل ہیں اتفاق کیا ہے کہ صحیحین کی حدیثیں واجب العمل ہیں اور موافقین اور مخالفین کا ان پر اجماع ہے۔ اقول ۔ میں نہیں جانتا کہ اس سفید جھوٹ سے آپ کی غرض کیا ہے اگر علماء مقلدین کے نزدیک بخاری اور مسلم کی حدیثیں بغیر کسی عذر شیخ وغیرہ کے بہر حال واجب العمل ہو تیں تو وہ بھی آپکی طرح خلف امام فاتحہ پڑھتے اور ان ل الزخرف: ۲۱ ٢ يونس: ٣٦٧ النجم: ٢٩