اَلْحق مباحثہ لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 93 of 598

اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 93

روحانی خزائن جلد۴ ۹۳ مباحثہ لدھیانہ منسوخ ہو سکتی ہے مگر امام شافعی اس بات کا قائل ہے کہ متواتر حدیث سے بھی قرآن کا شیخ جائز نہیں اور (91) بعض محدثین خبر واحد سے بھی نسخ آیت کے قائل ہیں لیکن قائلین نسخ کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ حقیقی اور واقعی طور پر حدیث سے آیت منسوخ ہو جاتی ہے بلکہ وہ لکھتے ہیں کہ واقعی امر تو یہی ہے کہ قرآن پر نہ زیادت جائز ہے اور نہ نسخ کسی حدیث سے لیکن ہماری نظر قاصر میں جو استخراج مسائل قرآن سے عاجز ہے یہ سب باتیں صورت پذیر معلوم ہوتی ہیں اور حق یہی ہے کہ حقیقی نسخ اور حقیقی زیادت قرآن پر جائز نہیں کیونکہ اس سے اس کی تکذیب لازم آتی ہے نور الانوار جو حنفیوں کے اصول فقہ کی کتاب ہے اس کے صفحہ ۹۱ میں لکھا ہے۔ روی عن النبی صلی الله علیه و سلم بعث معاذا الى اليمن قال له بما تقضى يا معاذ فقال بكتاب الله قال فان لم تجد قال بسنة رسول الله قال فان لـم تـجـد قـال اجتهد برأى فقال الحمدلله الذي وفق رسوله بما يرضى به رسوله لايقال انه يناقض قول الله تعالى ما فرطنا فى الكتاب من شيءٍ فكل شيء في القرآن فكيف يقال فان لم تجد فى كتاب الله لانا نقول ان عدم الوجدان لا يقضى عدم كونه في القرآن ولهذا قال صلى الله عليه و سلم فان لم تجد، ولم يقل فان لم يكن فی الکتاب ۔ اس عبارت مذکورہ بالا میں اس بات کا اقرار ہے کہ ہر ایک امر دین قرآن میں درج ہے کوئی چیز اس سے باہر نہیں اور اگر تفاسیر کے اقوال جو اس بات کے مؤید ہیں بیان کئے جائیں تو اس کیلئے ایک دفتر چاہئے۔ لہذا اصل حق الامر یہی ہے کہ جو چیز قرآن سے باہر یا اس کے مخالف ہے وہ مردود ہے اور احادیث صحیحہ قرآن سے باہر نہیں۔ کیونکہ وحی غیر متلو کی مدد سے وہ تمام مسائل قرآن سے مستخرج اور مستنبط کئے گئے ہیں۔ ہاں یہ بیچ ہے کہ وہ استخراج اور استنباط بجز رسول اللہ یا اس شخص کے جو ظلی طور پر ان کمالات تک پہنچ گیا ہو ہر ایک کا کام نہیں اور اس میں کچھ شک نہیں کہ جن کو ظنی طور پر عنایات الہیہ نے وہ علم بخشا ہو جو اس کے رسول متبوع کو بخشا تھا وہ حقائق و معارف دقیقه قرآن کریم پر مطلع کیا جاتا ہے جیسا کہ اللہ جل شانہ کا وعدہ ہے لَا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ ۔ اور جیسا کہ وعدہ ہے يُؤْتِي الْحِكْمَةَ مَنْ يَشَاءُ وَمَنْ يُوتَ الْحِكْمَةَ فَقَد أوتي خَيْرًا كَثِيرًا ۔ اس جگہ حکمت سے مراد علم قرآن ہے۔ سو ایسے لوگ وجی خاص کے ذریعہ سے علم اور بصیرت کی راہ سے مطلع کئے جاتے ہیں اور صحیح اور موضوع میں اس خاص طور کے قاعدہ سے تمیز کر لیتے ہیں۔ گو عوام اور علماء ظواہر کو اسکی طرف راہ نہیں لیکن ان کا اعتقاد بھی تو یہی ہونا چاہئے کہ قرآن کریم بے شک احادیث مرویہ کیلئے بھی الواقعة: ٢٨٠ البقرة :۲۷۰