اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 89
روحانی خزائن جلد ۴ ۸۹ مباحثہ لدھیانہ حکایت کا اقرار کر دیا ہو کیونکہ اگر آپ کا یہی اعتقاد ہے تو آپ پر بڑی مصیبت پڑے گی اور آپ اس ۸۷ تعارض کو جو محض الفاظ کے اختلاف کی وجہ سے جو بعض حدیثوں میں پیدا ہوتا ہے کسی طرح دور نہیں کرسکیں گے۔ مثلاً بخاری کی انہیں حدیثوں کو دیکھو جن میں قطع اور جزم کے طور پر بعض جگہ معراج کی رات میں حضرت موسیٰ کو چھٹے آسمان میں بتلایا ہے اور بعض جگہ حضرت ابراہیم کو ۔ پھر جس حالت میں با قرار آپ کے احادیث کے مبلغ فہم احادیث سے فارغ تھے یعنی ان کیلئے ان الفاظ کا سمجھنا جو ان کے منہ سے نکلے تھے ضروری نہیں تھا اور حافظہ کا یہ حال تھا کہ کبھی موسیٰ کو چھٹے آسمان پر جگہ دی اور کبھی ابراہیم کو تو پھر ایسے مبلغین کی وہ شہادتیں جو حدیث کے ذریعہ سے انہوں نے پیش کیں کس قدر وزن رکھتی ہیں ! جائے شرم ہے! آپ کیوں ناحق ان بزرگوں پر ایسے الزام لگاتے ہیں جو معمولی انسانیت سے بھی بعید ہوں !صاف ظاہر ہے کہ جس کی قوت فہم بکلی مسلوب ہو وہ نیم مجنون یا مد ہوش کا حکم رکھتا ہے ایسا کون معقل مند ہے کہ ایسے مخبط الحواس کے منہ سے کوئی حدیث سن کر پھر اس کو واجب العمل قرار دے یا اس کے ساتھ قرآن پر زیادت جائز ہو! افسوس کہ آپ نے یہ بھی نہیں سمجھا کہ اگر سلامت فہم راوی کیلئے شرط نہیں تو پھر عدم سلامت فہم جو فساد عقل کے ہم معنی ہیں کسی راوی میں پایا جانا جائز ہوگا ۔ اس صورت میں مجانین اور شکاری کی روایت بلا دغدغہ جائز اور صحیح ہوگی! کیونکہ سلامت فہم سے مراد یہ ہے کہ قوت فاہمہ باطل اور مختل نہ ہو۔ آپ اپنے بیان میں راوی کیلئے عدل کی شرط لگاتے ہیں اور صفت عدل کی صفت سلامت فہم کے تابع ہے اگر سلامت فہم میں آفت ہو صفت درست نہی میں اختلال راہ پاوے تو پھر کسی کے قول اور فعل میں عدل بھی قائم نہیں رہ سکتا۔ ہمیشہ عدل کو سلامت فہم مستلزم ہے اب بھی اگر آپ ضد سے باز نہ آئیں تو پھر آپ پر فرض ہوگا کہ آپ کسی معتبر کتاب کا حوالہ دیں جس سے ثابت ہو جو مختل الفهم لوگوں کی روایت بھی محدثین کے نزدیک قبول کے لائق ہے تا آپ کی حدیث دانی ثابت ہو ورنہ وہ تمام الفاظ عدم علم جو اپنی عادت کی لا چاری سے آپ اس عاجز کی نسبت استعمال کرتے ہیں آپ پر وارد ہوں گے اور میں تو محدثین کا متبع اور شاگرد ہو کر گفتگو نہیں کرتا تا میرے لئے ان کے نقش قدم پر چلنا یا ان کی اصطلاحوں کا پابند ہونا ضروری جما ہو بلکہ الہی تفہیم سے گفتگو کرتا ہوں لیکن میں آپ کے اس بار بار کی تحقیر کے الفاظ سے جو آپ فرماتے کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ محدثین کی اصطلاحات توقیفی ہیں اور شارع علیہ السلام کی تصدیق کی مہران پر لگی ہوئی ہے۔ اس میں شک نہیں کہ جیسے اور علوم وفنون کی مصطلحات انسانوں نے اپنے ذہنوں کی صفائی سے تراشی ہیں۔ اس مقدس