اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 85
روحانی خزائن جلد ۴ ۸۵ مباحثہ لدھیانہ واقع ہوا ہے جیسا کہ احادیث کا تعارض دور کرنے کیلئے جواب دیا جاتا ہے تو پھر اس صورت میں ۸۳ یہ اعتقاد ہونا چاہئے کہ مثلاً پہلی دفعہ کی معراج کے وقت میں نمازیں پچاس فرض کی گئیں اور ان پچاس میں تخفیف کرانے کیلئے کئی مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے موسیٰ اور اپنے رب میں آمد ورفت کی۔ یہاں تک کہ پچاس نماز سے تخفیف کرا کر پانچ منظور کرا ئیں ۔ اور خدا تعالیٰ نے کہہ دیا کہ اب ہمیشہ کیلئے غیر مبدل یہ حکم ہے کہ نمازیں پانچ مقرر ہوئیں اور قرآن پانچ کیلئے نازل ہو گیا پھر دوسری دفعہ کی معراج میں یہی جھگڑا پھر از سرنو پیش آگیا کہ خدا تعالیٰ نے پھر نمازیں پچاس مقرر کیں اور قرآن میں جو حکم وارد ہو چکا تھا اس کا کچھ بھی لحاظ نہ رکھا اور منسوخ کر دیا مگر پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی دفعہ کے معراج کی طرح پچاس نمازوں میں کچھ تخفیف کرانے کی غرض سے کئی دفعہ حضرت موسیٰ“ اور اپنے رب میں آمد و رفت کر کے نمازیں پانچ مقرر کرا ئیں اور جناب الہی سے ہمیشہ کیلئے یہ منظوری ہوگئی کہ نماز میں پانچ پڑھا کریں اور قرآن میں یہ حکم غیر متبدل قرار پا گیا لیکن پھر تیسری دفعہ کے معراج میں وہی پہلی مصیبت پھر پیش آگئی اور نمازیں پچاس مقرر کی گئیں اور قرآن کریم کی آیتیں جو غیر متبدل تھیں منسوخ کی گئیں پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی وقت اور بار بار کی آمد ورفت سے پانچ نمازیں منظور کرا ئیں مگر منسوخ شدہ آیتوں کے بعد پھر کوئی نئی آیت نازل نہ ہوئی !!! اب کیا یہ سمجھ میں آسکتا ہے کہ خدا تعالی ایک دفعہ تخفیف کر کے پھر پانچ سے پچاس نمازیں بنا دے اور پھر تخفیف کرے اور پھر پچاس کی پانچ ہو جائیں! اور بار بار قرآن کی آیتیں منسوخ کی جائیں اور حسب نشاء نَأْتِ بِخَيْرٍ مِنْهَا أَوْ مِثْلِهَالے اور کوئی آیت ناسخ نازل نہ ہو! در حقیقت ایسا خیال کرنا وحی الہی کے ساتھ ایک بازی ہے! جن لوگوں نے ایسا خیال کیا تھا انکا مدعا یہ تھا کہ کسی طرح تعارض دور ہو لیکن ایسی تاویلوں سے ہرگز تعارض دور نہیں ہوسکتا بلکہ اور بھی اعتراضات کا ذخیرہ بڑھتا ہے ایسا ہی اور کئی حدیثوں میں تعارض ہے۔ قولہ ۔ آپ لکھتے ہیں کہ احادیث کے دو حصے ہیں اول وہ حصہ جو تعامل میں آچکا ہے جس میں وہ تمام ضروریات دین اور عبادات اور معاملات اور احکام شرع داخل ہیں دوسرا وہ حصہ جو تعامل سے تعلق نہیں رکھتا یہ حصہ یقینی طور پر سیج نہیں ہے اور اگر قرآن سے مخالف نہ ہو تو صحیح تسلیم ہوسکتا ہے اس قول سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ فن حدیث اور اصول روایات اور قوانین درایت سے محض نا واقف ہیں اور مسائل اسلامیہ سے نا آشنا۔ البقرة : ١٠٧